عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 246

246 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم در پیش نہیں تھا۔قرآن کریم کے مطابق یہ خدا تعالیٰ کے اوپر حرف ہے اور خدا تعالیٰ کی منصوبہ بندی کے اوپر ایک حرف ہے یعنی اس نے جو کائنات کا نقشہ بنایا ہے تم اس کو نعوذ باللہ من ذلک جاہل سمجھتے ہو کہ اسکو اپنی تخلیق کیلئے منصوبہ بندی نہیں آتی۔جہاں بھی خاندانی منصوبہ بندی سے روکا ہے وہاں واضح کر دیا ہے کہ رزق کی کمی کے خطرہ کے پیش نظر خاندانی منصوبہ بندی منع ہے۔چنانچہ صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں فیملی پلاننگ کی بعض صورتیں اختیار کیا کرتے تھے۔قتل اولاد کے خلاف قرآنی تعلیم کی عظیم حکمت: یہ لیبر فورس جو مختلف غریب ملکوں سے نکل کر دنیا میں پھیل رہی ہے اور دنیا کی بیرونی طاقتیں ان کوروکنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔اگر چاہیں بھی تو ان کو نہیں روک سکتیں اور ان کے اقتصادی تقاضے بھی ان کو اس سے باز رکھیں گے یہ ساری پھیلتی ہوئی آبادیاں ہیں جن کے حالات بدل رہے ہیں۔یہ لوگ اپنے عزیزوں کے لئے جو پیسے بھجواتے ہیں ، وہ نہ صرف ان کے خاندانوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں بلکہ غریب ملکوں کیلئے زرمبادلہ ( فارن اکھینچ ) کمانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنتا ہے۔باہر جا کر وہ نئی نئی چیزیں دیکھتے ہیں۔جب یہ غریب ملکوں کے باشندے امیر ملکوں میں حیرت انگیز نئی ایجادات کو دیکھتے ہیں تو ان میں سے بہت سے اپنے وطنوں میں غریب رشتہ داروں کو بھجواتے ہیں تا کہ ان کے رہن سہن بہتر ہوسکیں۔ان میں سے بہت سے ان چیزوں کو بنانے کا ہنر بھی سیکھ لیتے ہیں اور اس علم کو واپس اپنے ملک میں برآمد کرتے ہیں۔اس طریق پر اس ملک کو جدید بنانے میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔ان ہی غریب لوگوں میں سے بعض امیر ملکوں کی رہائش کے دوران بہت دولت کمالیتے ہیں۔جس کی مدد سے وہ اپنے غریب وطنوں میں کئی قسم کے عظیم الشان کارخانے قائم کر لیتے ہیں۔سب غریب ملکوں کا یہی حال ہے۔دنیا میں جو عظیم الشان تغیر بر پا ہوئے ہیں، نئے نئے علاقے قوموں نے فتح کئے ہیں، نئی نئی معاشرتی ،تمدنی، اقتصادی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اس میں غریب ملکوں میں بڑھتی ہوئی اولاد کے دباؤ نے ایک بہت ہی عظیم الشان کردار سرانجام دیا ہے۔بعض غریب ملکوں میں بیوقوف حکومتیں مغرب کی منصوبہ بندی کے جھانسے میں پھنس کر جب خاندانی منصوبہ بندی کرتی ہیں تو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان لوگوں کو گھاٹا کھانے والے قرار دیا ہے۔بہت سے امیر ممالک اپنے ملکوں میں تو آبادی بڑھانے کیلئے ہر قسم کے جتن کرتے ہیں مثلاً جرمنی اور ناروے وغیرہ میں زیادہ بچوں پر وظائف دیئے جاتے ہیں اسی طرح انگلستان میں بھی بچوں کو وظیفے ملتے ہیں تو یہ بھی تو پیدائش کی رفتار بڑھانے کیلئے ایک