عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 235

بنی نوع انسان کے مابین قیام عدل کا بنیادی اصول 235 کیلئے خطرہ بنی رہے اس طرح جرمنی کی توجہ باہر کی قوموں کی طرف سے ہٹ جائیگی اور اگر کبھی یہ مواد پھوٹا تو ایک دوسرے کے خلاف پھوٹے گا۔کیونکہ دنیا میں نظریاتی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں اور ہوتی چلی جائیں گی۔اگر آئندہ مشرق اور مغرب کا اتحاد ہو جائے تو یہ ہر گز بعید نہیں اور اس صورت میں جرمنی پہلے سے زیادہ عظیم طاقت بن کر ابھرے گا۔صرف یہ ایک فیصلہ نہیں، ایسے اور فیصلے بھی ہوئے ہیں جن کے نتیجہ میں جنگ کا خطرہ ٹالا نہیں جاسکتا۔پس قرآن کریم یہ کہہ کر ختم نہیں کر دیتا کہ اگر تم لڑو اور زیادتی کرنے والے ملک کو شکست دے دو تو بات ختم ہو جائے گی۔فرمایا ہر گز نہیں جب تم ایک ظالم قوم پر غالب آ جاتے ہو وہ وقت ہے کہ تم انصاف سے کام لو اور اس ظالم قوم کے خلاف بھی زیادتی نہ کرو۔پھر تم یقین جانو کہ تمہیں ایک مستقل امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔فرمایا: اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ خدا کا قانون ہے جو تمہارا ساتھ دیگا۔جن قوموں سے اللہ محبت کیا کرتا ہے ان کو آپس میں لڑایا نہیں کرتا۔بلا امتیاز تمام بنی نوع انسان کے معاملات میں نیکی کی قرآنی تعلیم : جہاں تک مسلمانوں کے اس دور کا تعلق ہے جب خود مسلمان غیروں سے نبرد آزما تھے یعنی جب غیر قومیں ان پر حملہ کر رہی تھیں جب مشرکین مکہ خصوصیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کے درپے تھے اس دور میں قرآن کریم نے جو تعلیم دی ہے یہ وہ تعلیم ہے جس سے خوب اچھی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ یہ تعلیم کسی بندہ کی نہیں جس نے اپنے جذبات کے نتیجہ میں وہ تعلیم دی ہو بلکہ ایک عالم الغیب والشہادۃ خدا کی تعلیم ہے جو اپنے سب بندوں میں مشترک ہے۔جس طرح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک بڑے نکتہ کی بات بیان فرمائی که یا درکھنا کہ خدا کی کسی بندے سے رشتہ داری نہیں ہے۔اگر ہے تو سب سے ہے۔اگر نہیں تو کسی سے بھی نہیں۔پس اس معاملہ میں اگر محمد رسول اللہ کے اسوہ کو جانچنا ہے تو اس کے جانچنے کا وہ موقع ہے جبکہ مسلمان اپنی بقا کی جنگ میں مبتلا تھے۔دیکھنا چاہیے کہ اس وقت آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیم کیا تھی۔فرمایا: