عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 236

236 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم لَا يَنْصُكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ۔(9:60) یعنی اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم ان سے نیکی کرو اور ان سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہرگز اس بات سے نہیں روکتا کہ صرف ان لوگوں سے اپنا بدلہ لو جنہوں نے تم سے دینی اختلافات کی بناء پر قتال کیا اور تمہیں اپنے گھروں سے نکالا۔جنہوں نے یہ نہیں کیا ان کے ساتھ انصاف سے کام لو اور نیکی سے کام لو۔پھر فرمایا: وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِاَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة225:2) ترجمہ: اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ اس غرض سے نہ بناؤ کہ تم نیکی کرنے یا تقویٰ اختیار کرنے یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے سے بچ جاؤ اور اللہ بہت سننے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو! نیکی کے نامپر ظلم نہیں کرنا۔اللہ کی قسمیں کھا کھا کر، یہ کہہ کر کہ اللہ کا دین ہے اور اللہ کے دین کے تقاضے یہ ہیں کہ ہم تم پر زیادتی نہ کریں۔ہرگز ایسا نہ کرنا۔خدا ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ خدا کو اپنی قسموں کا نشانہ بنالو اور پھر یہ کہو کہ خدا سے تعلق کے تقاضے یہ ہیں کہ ہم تمہیں مٹادیں اور تم سے ہر قسم کی نیکی سے ہاتھ روک لیں۔فرمایا ہرگز ایسا نہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ اگر تعلق ہے تو تمہیں تمام بنی نوع انسان سے ہمیشہ نیکی کرنی پڑے گی۔