عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 234

234 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم یہاں سب سے پہلے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہاں مومنوں کی بات کی گئی ہے، عام بنی نوع انسان کی بات نہیں کی گئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم جو یہ تعلیم دیتا ہے اس پر مومنوں نے ہی تو عمل کرنا ہے باقی جو قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں وہ کیوں عمل کریں گے لیکن اگر مومن عمل کریں تو وہ ایک نمونہ بن کر لوگوں کے سامنے ابھر سکتے ہیں پس قرآن کریم کی تعلیم مومنوں کے آئینہ میں غیروں کیلئے ایک نہایت حسین تصویر بناتی ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے لڑائی کا انتظار نہیں کرنا لڑائی سے پہلے اصلاح احوال کر اور نہ پھر بہت دیر ہو جائے گی پھر تم اس قابل نہیں رہو گے کہ لڑائی کو روک سکو لیکن اگر تمہارے اصلاح کروانے کے باوجود یا صلح کی کوششوں کے باوجود دوفریق آپس میں لڑ پڑیں تو پھر نصیحت کی بات نہیں کرنی محض ریزولیوشنز کی بات نہیں کرنی پھر تم سب کو متحد ہو کر اس ایک فریق کے خلاف تلوار اٹھانی پڑے گی جو تمہارے سب کے نزدیک غلطی پر ہے یا جس نے زیادتی کی ہے پھر فرمایا یہ کرنے کے بعد جب صلح ہو جائے امن پیدا ہو جائے اس کے بعد پھر جب تم فیصلے کرو گے تو اس میں انصاف سے کام لینا اگر اس وقت تم نے انصاف سے کام نہ لیا تو آئندہ مزید جنگوں کے بیج بودو گے۔قرآنی تعلیم کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں آئندہ جنگوں کا خطرہ: گزشتہ جنگ عظیم کے بعد دنیا کی بڑی طاقتوں نے جس طرح سر جوڑے اور جس طرح مجرم قوموں کو جن کو وہ مجرم سمجھتے تھے، سزادی اور اس نیت سے سزادی کہ ان کو چل کے رکھ دیں ان کے فیصلوں میں بہت سی خلاف انصاف باتیں موجود تھیں اور دوسری جنگِ عظیم کی بنیاد ان فیصلوں نے ڈال دی تھی جو پہلی جنگ عظیم کی صلح کے بعد ہوئے۔ہر طالب علم جو گہری نظر سے تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے اس بات کی تصدیق کرے گا۔وہ آسانی سے ان تمام ظالمانہ فیصلوں کی نشاندہی کر سکتا ہے جن کے رد عمل کے طور پر مغرور قوموں نے دوبارہ سر اٹھایا اور انتقام لینے کی کوشش کی۔اور گزشتہ جنگ میں جنگ کے رکنے کے بعد جو فیصلے کئے گئے ہیں ان میں بھی آئندہ جنگ کے لئے بنیادیں قائم کر دی گئی ہیں۔دوسرے فیصلوں کو چھوڑئیے جرمن قوم کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔جرمن قوم کو یہ سمجھ کر تقسیم کر دیا گیا ہے کہ ایک ایسی قوم ہے کہ جس سے ہمیشہ ہمیں خطرہ رہے گا جب بھی اس قوم کو سراٹھانے کا موقع ملے گا اس نے دوبارہ پھر پہلی باتوں کو دہرانا ہے اور دوبارہ ہم سب کیلئے خطرہ بن جائے گی اس لئے چرچل نے اور روز ویلٹ اور سٹالن نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ اس کو اس طرح بیچ میں سے کاٹ دو اور اس طرح مختلف Ideologies کے سپرد کر دو کہ جرمن قوم ہمیشہ ایک دوسرے