عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 233

بنی نوع انسان کے مابین قیام عدل کا بنیادی اصول 233 (59) بہت ہی خوبصورت واقعہ ہے۔حضرت عائشہ خود ہی بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم سے کہا آپ صفیہ کا بہت خیال کرتے ہیں مگر وہ ایسی ہے یعنی اپنی چھوٹی انگلی کھڑی کر دی اور اس طرح حضرت صفیہ کے چھوٹے قد پر طنز کر دیا۔آپ نے فرمایا عائشہ ! تم نے ایک ایسی بات کہی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا ذائقہ تبدیل ہو جائے ، اس کا مزاج بدل جائے۔اب دیکھیں کتنی عظیم بات ہے اور کتنی گہری بات ہے۔اس خیال سے حضرت عائشہ نے ایک دوسری زوجہ مطہرہ کے متعلق طبعی فطری رقابت کے نتیجہ میں جس طرح بات کہہ دی آپ نے اس کو نظر انداز نہیں فرما دیا لیکن بات ایسی کہی جو عین اس کا جواب تھی اور ایسا عمدہ جواب کہ اس سے بہتر جواب متصوّ رہی نہیں ہوسکتا۔بین الاقوامی جھگڑوں کے فیصلہ کیلئے قرآن کی عادلانہ تعلیم : آپ نے ہمیں قول میں عدل کے نمونے بتائے اور قول میں حسن کی تعلیم دی یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن پر قائم ہوئے بغیر دنیا سے فسادات نہیں مٹ سکتے۔یہ حقیقت ہے کہ انسانی فطرت کے اندر جو بنیادی بیماریاں پائی جاتی ہیں جب تک ان کی اصلاح نہ ہو ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مفاسد سے انسان کبھی نہیں بچ سکتا۔محض ہتھیاروں کی موجودگی کی وجہ سے انسان خطرہ میں نہیں ہے۔اگر انسان خطرہ میں ہے تو ان ہتھیاروں کے مالک قوموں کی ذہنیت کے فساد کی وجہ سے خطرہ میں ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ اگر یہ اصلاح نہ ہوئی ہو اور قو میں آپس میں لڑ پڑیں تو پھر کیا طریق اختیار کرنا چاہیے اور قرآن کریم کے نزدیک بین الاقوامی جھگڑوں کو طے کرنے کیلئے عادلانہ تعلیم کیا ہے۔فرمایا: وَإِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوْا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدهُمَا عَلَى الْأخْرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إلَى أَمْرِ اللهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات 10:49) اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کر رہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔