عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 232
232 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے اور جس نے تو یہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔اب یہ مضمون اتنا کھول کر بیان کر دیا گیا ہے کہ کوئی انسان جو سرسری طور پر بھی قرآن کریم کا مطالعہ کرے وہ یہ عذر نہیں پیش کر سکتا کہ مجھے اس تفصیلی تعلیم کا علم نہیں تھا۔مگر وہ تمام ممالک جن میں قرآن کریم کی یہ ہدایات بار بار پڑھی جاتی ہیں ان میں بھی یہ خرابیاں موجود ہیں۔بظاہر آمــنــا وصدقنا ضرور کہتے ہیں لیکن عمل کی دنیا میں اس عہد کو بالکل بھلا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ معمولی باتیں ہیں لیکن یہی معمولی باتیں ہیں جن سے نہایت خطرناک فتنے اٹھتے ہیں اب دیکھیں ہندو پاکستان میں قومی لطیفوں کا بہت رواج ہے۔کوئی جلا ہوں نائیوں اور دیگر پیشہ وروں کے خلاف غیر پیشہ وروں نے لطیفے بنائے ہوئے ہیں اور زمینداروں کے خلاف پیشہ وروں نے لطیفے بنائے ہوئے ہیں۔اسی طرح پاکستان میں سکھوں کے خلاف اور ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف لطیفے بنا کر مشتہر کئے جاتے ہیں۔ان لطائف کو اگر ایسے موقع پر استعمال کیا جائے جبکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو تو پھر تو کچھ بات بھی ہو۔ان لطیفوں کے رد عمل کی وجہ سے مختلف قوموں میں Racialism پروان چڑھتا ہے۔قرآن کریم نے تنبیہ فرمائی تھی کہ دیکھو ایسانہ کر دور نہ تقدیر ان باتوں کو الٹادے گی جن کو تم آج ذلیل اور ادنی سمجھتے ہو وہ ہو سکتا ہے تم پر غالب آجائیں۔چنانچہ یہ عمل دنیا کی ہر سوسائٹی میں اسی طرح رونما ہوا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ جب انگلستان میں بھی پیشہ وروں اور تاجروں کو تحقیر اور تذلیل کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔صرف ایک Landed Gentry تھی وہ اس ملک کے چودھری تھے اور سمجھتے تھے کہ ہر دوسرا کمین ہے۔دیکھئے خدا کی تقدیر نے کس طرح زمانہ کو پلٹا دیا ہے۔آج وہ سارے تاجر تمام سوسائٹی پر چھائے ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ معزز بنے ہوئے ہیں۔آنحضرت ﷺ کا طریق تربیت: اب میں آنحضرت ﷺ کے گھر میں قول عدل سے متعلق آپ کی تربیت کی مثالیں پیش کرتا ہوں۔حضرت خدیجہ کے بعد آپ کو جس زوجہ مطہرہ سے سب سے زیادہ پیار تھاوہ حضرت عائشہ صدیقہ تھیں۔جب آپ نے حضرت عائشہ میں ایک ایسی بات دیکھی جو آپ کے اعلیٰ معیار کے مطابق قول عدل کے خلاف تھی تو آپ نے وہیں پرسش فرمائی اور کس طریق سے پرسش فرمائی یہ ایک