عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 214
214 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کہلانے والے ملاں کا دین آنحضور میلے کے اس مسلک سے بہت دور ہٹ چکا ہے۔پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے غلاموں کے ایسے عہد کی بھی پابندی فرمائی جو وہ عہد کرنے کے آنحضرت علی کی طرف سے مجاز نہیں تھے۔یہاں عہد کی پابندی کا مضمون عدل سے بڑھ کر احسان میں داخل ہو جاتا ہے۔حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آنحضور ﷺ ایک کپڑے میں لیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں انتظار کرتی رہی۔پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ہیرہ کے فلاں بیٹے کو پناہ دے چکی ہوں اور یہ کہنے سے انکی مراد یہ تھی کہ میں نے یہ پناہ اپنے طور پر دی ہے اور دیگر صحابہ کے اتفاق یا آپ کی اجازت سے نہیں دی۔لیکن میرے ماں جائے علی یعنی میرے سگے بھائی اسے قتل کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” قد اجرنا من (51) اجرت یا ام هانی“۔اے ام ہانی! جسے تو نے پناہ دیدی اسے ہم نے بھی پناہ دیدی۔ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ اس پناہ کی پشت پناہی پر پابند نہیں تھے۔کوئی انصاف کا قانون بھی آپ پر یہ لازم نہیں کرتا جہاں تک عدل کا تقاضا ہے۔تاہم اپنوں میں سے انفرادی طور پر کسی کے فعل پر صاد کرنا احسان کے طور پر ہوسکتا ہے۔مسلمانوں کے سیاسی ادبار سے متعلق ایک پیشگوئی: مسلمانوں کو عہد شکنی سے باز رکھنے کیلئے آنحضرت ﷺ نے ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا۔آپ نے بطور پیشگوئی فرمایا: تُنْتَهَى ذِمَّةُ اللَّهِ وَ ذِمَّةً رَسُولِهِ اللهِ فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ قُلُوْبَ اهل الزِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا فِى أَيْدِيهِمْ۔(صحيح بخارى كتاب الجزية باب اثم من عاهد ثم غدر کہ جب اللہ کے ذمہ (عہد ) اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کو توڑا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا فروں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور وہ اپنے مال میں سے تمہیں کچھ بھی نہیں دیں گے۔(52) اگر اس نکتہ کو مسلمان حکومتیں ملحوظ رکھتیں تو وہ کبھی بھی ضائع نہ ہوتیں۔مسلمانوں کی سلطنتوں میں دو دور آئے ہیں۔اول دور میں جب مسلمان اپنے ذمہ لوگوں کے عہد کا خیال رکھتے تھے، ان کی