عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 215

غیروں سے معاہدات 215 ضرورتوں کا خیال کیا کرتے تھے، ان کے حقوق کی حفاظت کرتے تھے، تو اس وقت ان کی رعایا ان سے محبت اور احترام کا تعلق رکھتی تھی اور اختلاف مذہب اس تعلق کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوسکا۔پس وہ قوم جو اپنے عہدوں کی حفاظت کرتی ہے وہ پورے کئے ہوئے عہد خود اس قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔تاریخ اسلام میں اس مضمون کی تائید میں ایک ایسا نمایاں واقعہ ملتا ہے جو بار بار بیان کے لائق ہے۔ایک بار رومیوں کے زبردست دباؤ کی وجہ سے اسلامی لشکر حمص سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔مسلمانوں نے اس علاقہ سے وصول شدہ سارا خراج وہاں کے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے واپس کر دیا کہ ہم نے تمہاری حفاظت اور اس علاقہ کے امن و امان کو برقرار رکھنے کی شرط پر یہ ٹیکس وصول کیا تھا۔اب ہم اس علاقہ کو چھوڑ رہے ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں کہ تمہاری حفاظت کر سکیں۔اس پر اہل حمص نے جو جواب دیا اسے تاریخ کے اوراق نے ان سنہری حروف میں محفوظ کیا ہے۔انہوں نے کہا: ”ہم اپنے ہم مذہب لوگوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے ان حالات میں تم آئے۔تمہاری حکومت اور تمہارے عدل نے ہمیں اپنا گرویدہ بنالیا۔اب ہم تمہارے مقرر کردہ گورنر کے ساتھ مل کر ہر قل کے لشکر سے لڑیں گے اور ہمیں مار کر ہی وہ آگے بڑھ سکے گا۔“ (53) چنانچہ یہ سارا علاقہ رومیوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ہر قل پسپا ہوا اور مسلمان دوبارہ اس علاقہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے تو وہاں کے باشندوں نے ان کا پر جوش استقبال کیا بڑے بڑے جلوس نکالے اور ادائے خراج اور وفاداری کے نئے سرے سے عہد و پیمان ہوئے۔اس دور کے بعد جس کی ایک نیک مثال بیان کی گئی ہے بدنصیبی سے ایک دوسرا دور آیا جب مسلمان حکومتوں نے اپنے ماتحتوں کے حقوق کی حفاظت چھوڑ دی اور تعلیم قرآن کی رو سے حاکم اپنی رعایا کے مفادات کی حفاظت کا جس طرح پابند ہے اس کی پرواہ نہ کی تو رعایا بھی ان سے غافل اور بے تعلق ہوگئی اور یہ توڑے ہوئے عہد ان کی حکومتوں کے ٹوٹنے اور زوال کا موجب بن گئے۔معاہدات کی پابندی کی بعض اور مثالیں : انفرادی طور پر آنحضرت علیہ غیر کے حقوق کی ایسی حفاظت کرتے تھے اور ذمیوں کے حقوق کے متعلق ایسی شدت سے تعلیم دیتے تھے کہ آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کا نمونہ اسی رنگ میں ڈھالا گیا جس رنگ میں آنحضرت ﷺ نے ان کو تعلیم دی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک یہودی قتل ہو گیا اور اس کے قتل کا سراغ نہیں ملتا تھا۔حضرت عمرؓ کو اس کا علم ہوا تو گھبرا کر باہر نکل آئے اور صحابہ