عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 213
غیروں سے معاهدات 213 تشریح کرتا ہے کہ یہود جب اپنا مقدمہ لے کر آتے ہیں تو رسول اللہ کی بالا دستی جو اس معاہدہ میں مسلّم ہے اس کا آنحضور ﷺ نے یہ مطلب نہیں سمجھا کہ آپ اپنے دین کو شریک معاہدہ دوسرے دین والوں پر ٹھونسیں بلکہ بلا استثناء ان کو اختیار دیا کہ چاہو تو تمہاری شریعت کے مطابق فیصلہ ہواور چاہو تو اسلامی شریعت کے مطابق اور چاہو تو رواج کے مطابق۔صلى معاہدات کی پابندی میں اسوہ رسول صلی اللہ : معاہدات کی پابندی کے سلسلہ میں اب میں آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے بعض مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک قاصد آیا جو کسی قوم کی طرف سے ایک پیغام لایا تھا۔وہ آپ سے ملاقات کے بعد اسلام لے آیا اور باوجود اسکے کہ اس کے بیوی بچے اور اس کے اہل وعیال اور اسکے مال و متاع سب پیچھے تھے اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اب تو میرا واپس جانے کو دل نہیں چاہتا۔مجھے اجازت دیں میں یہاں آپ ہی کے قدموں میں ٹھہر جاؤں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں بدعہدی کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔تم قاصد ہو۔تمہیں بہر حال واپس جانا چاہیئے۔“ قاصد کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ پیغام لے کر آئے اور پھر واپس نہ لوٹے۔کیسی شان کی تعلیم ہے۔اگر یہ معاملہ رسول اکرم ﷺ کے سامنے نہ آیا ہوتا تو ہم میں سے بہت سے منصف مزاج طبعا یہ کہتے سو بسم اللہ ، شوق سے بیٹھو۔تم اپنی مرضی سے ٹھہر رہے ہو تمہیں یہ جگہ پسند آ گئی ہے، ہم آزاد ہو۔بہر حال حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو یہ اختیار ضرور دیا کہ ہاں اگر پھر واپس آنا چا ہوتو آ جانا اس سے کوئی انکار نہیں۔چنانچہ وہ گیا اور چونکہ وہ بھی سچا تھا اپنے دل سے مجبور تھا۔کچھ عرصہ کے بعد ان لوگوں سے بھاگ کر پھر آ گیا۔اس دفعہ وہ قاصد نہیں تھا بلکہ ایک مہاجر کے طور پر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔(49) آنحضرت ﷺ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان مکہ سے ہجرت کر کے بدر کے موقعہ پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا کہ جب میں مکہ سے نکلا تھا تو قریش نے یہ شبہ کر کے کہ شاید میں آپ کی مدد کیلئے جارہا ہوں مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں آپ کی طرف سے ہو کر نہ لڑوں گا۔تو آپ نے فرمایا کہ پھر جاؤ تم اپنے عہد کو پورا کرو، ہمیں ہمارا خدا کافی ہے۔(50) سبحان اللہ ! آپ کے توکل کی کیا شان ہے ورنہ یہ کہہ سکتے تھے کہ جو عہد دباؤ کے تحت (Under duress) لیا جائے اس عہد کی پابندی لازم نہیں رہتی۔افسوس کہ آج مسلمان