عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 195
بندہ سے خدا کا معاهده اور ذیلی معاهدات 195 پس دیکھئے قرآن کریم کس طرح فطرت انسانی پر بار یک نگاہ ڈالتا ہے اور دلوں کی بھی اور نفس کی ٹھوکر کے ہر موقعہ کے متعلق کھلے الفاظ میں خبر دار کرتا ہے تاکہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لاعلمی کا عذر رکھ سکیں۔عہد شکنی قوموں کو ہدایت سے محروم کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ سے شریعت کو قبول کر کے قومیں جو عہد باندھتی ہیں اس عہد کو توڑنے کا محرک بھی بیان فرما دیا تا کہ انسان اس سے متنبہ رہے۔فرمایا فَنَبَدُوْهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، کہ وہ دنیا کے اموال یا دنیا کی لذتوں کی معمولی قیمت حاصل کر کے عہد توڑتے ہوئے خدا کی رضا کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔اسی طرح ان علماء پر بھی یہ آیت اطلاق پاتی ہے جنہوں نے دین کو اپنی روزی کا ذریعہ بنایا ہوا ہوتا ہے اور چونکہ روزی کمانا مقصد اوّل ہے اس لئے دینی اقدار جب بھی روزی کمانے کے مصالح سے ٹکراتی ہیں تو قربان کر دی جاتی ہیں۔ہندو پاکستان کے اکثر علماء جن کی ناء ونوش اپنی یا دیگر مسلمان حکومتوں کی خیرات پر منحصر ہے یا پرانے معاشرہ کے مطابق صاحب حیثیت زمینداروں کی دی ہوئی روٹی پر گزر اوقات ہے ان کے لئے بڑی آزمائش ہے کہ وہ رائج العام نظریات کے خلاف قرآن کریم کی ایسی گواہیاں پیش کریں جو ان کے رزق کی راہیں بند کر دیں۔مگر محض مجبوری کا عذر نہیں بلاشبہ ایسے بھی ملتے ہیں جن کے دل تقویٰ سے کلینتہ عاری ہیں اور محض حب زر کی ہوس میں مبتلا ہو کر بکثرت ایسے جھوٹ بولتے ہیں اور کلام الہی کے ساتھ وفا میں خیانت کے مجرم ٹھہرتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں وہ حکومتوں کے منظور نظر ہو جائیں یا عوام الناس میں ایسی شہرت پا جائیں کہ ان کو بڑے بڑے دنیاوی اور مالی فوائد پہنچنے لگیں۔جب یہ کیفیت پیدا ہو جائے اور انحطاط یہاں تک پہنچ جائے تو پھر ایسے علماء قبول حق کے معاملہ میں بے حس ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح یا پیغمبر مبعوث کیا جائے تو یہی وہ علماء ہیں جو نہ صرف انکار میں پہل کرتے اور شوخی دکھاتے ہیں بلکہ چونکہ دنیا کی خاطر دین کے عہد توڑنے کی انہیں عادت پڑ چکی ہوتی ہے اور دنیا کی خاطر دین بیچنے کی شرم ٹوٹ چکی ہوتی ہے اس لئے ایسے مواقع پر جب خدا کی طرف سے کوئی آنے والا انکو ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس موقع کو بھی وہ دنیا طلبی کے لئے ایک مزید ذریعہ بنالیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اس حد سے بڑھی ہوئی بیماری کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا: وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ (الواقعة 83:56) یعنی کیا میرے پاک بندوں کی تکذیب ہی کو تم نے رزق کمانے کا ذریعہ بنالیا