عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 194

194 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم بھلائی کے لئے اس کو کھول کھول کر بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔پھر انہوں نے اس (میثاق) کو اپنے پسِ پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے معمولی قیمت وصول کر لی۔پس بہت ہی برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔یعنی ہم نے اہل کتاب سے ایک میثاق لیا تھا۔عام عہد سے بڑھ کر میثاق کے لفظ میں عظمت پائی جاتی ہے۔ایک ایسا پختہ عہد جو دونوں طرف سے ہو جو TREATY کو اور اسکوتوڑنے والا نقض عہد کا سنگین مجرم قرار دیا جائے۔فرمایا جن کو کتاب دی گئی ہم نے ان سے یہ عہد لیا تھا کہ اس کتاب کے تمام احکامات کو کھول کھول کر بیان کرنا اور خواہ کسی آیت کی گواہی تمہارے خلاف جاتی ہو اس کے باوجود تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ اس آیت کو چھپا لو بلکہ جس طرح تمہارے رسول پر وحی نازل ہوئی بعینہ اسی طرح اس کے ہر پہلو کو کھول کر لوگوں کے سامنے رکھو پھر لوگوں پر چھوڑ دووہ نتیجہ اخذ کریں کہ تمہارا استدلال درست ہے یا تمہارے مخالف علماء کا استدلال درست ہے۔لیکن ضروری ہے کہ دونوں پہلوؤں کو بلکہ ہر پہلو کو کھول کر بیان کرو۔فرمایا " فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوُا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ، کتنی حسرت کی بات ہے کہ انہوں نے اس عہد کو پختگی کے باوجودا اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا۔اور کیوں پھینک دیا ؟ اس کے بدلہ ادنی دنیوی اموال پر راضی ہو گئے۔پس جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کی مخالفت کی جاتی ہے جیسا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مخالفت اس زمانے میں ہو رہی تھی اسکا نفسیاتی پس منظر بیان فرمایا گیا ہے۔فرمایا ہے اگر یہود عہد شکنی نہ کرتے اور اپنی بائیل کی وہ آیات بھی لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناتے جن آیات سے آنحضرت ﷺ کی تائید ہوتی تھی تو پھر ان پر کوئی حرف نہیں تھا پھر ہم نہیں کہ سکتے تھے کہ یہ ٹیڑھی فطرتوں والے جھوٹے لوگ ہیں۔فرمایا وہ تو یہ کام کرتے ہیں کہ بعض آیات کو چھپاتے ہیں اور ان کو عامتہ الناس کے سامنے پیش نہیں کرتے گویا ان پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں چونکہ بالعموم عوام الناس کو پوری کتاب کا علم نہیں ہوتا اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اسی حد تک تعلیم ہے جو ہمارے علماء ہمیں بتا رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کو اس دور میں ایسے ہی علماء سے واسطہ پڑا ہوا ہے۔تعجب ہے کہ فی زمانہ علماء جو اپنے زعم میں ختم نبوت کی حفاظت پر مامور ہو بیٹھے ہیں اس آیت پر کیوں غور نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو عوام سے کیوں چھپاتے ہیں۔بالعموم وہ اپنے وعظوں میں اس آیت کے ذکر ہی سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ اس کا مضمون اس مضمون کے مخالف نظر آتا ہے جو انہوں نے ختم نبوت کا سمجھ رکھا ہے۔