عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 192

192 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم ہرامت اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی اور اس عہد کے مطابق جو اسکی کتاب میں درج ہے قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا۔خدا تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ اس نے ایک عہد تو انبیاء سے اپنے تعلق میں لیا تا کہ وہ اس عہد کی رو سے خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ٹھہر ہیں۔اور ایک عہد انبیاء کا ان کی امتوں سے تعلق کے سلسلہ میں لیا تا کہ ان کی امتیں اس عہد کی رو سے انبیاء کے سامنے جوابدہ ٹھہریں۔لیکن ایک تیسرا عہد بھی لیا جسکا ذکر دوسرے کسی مذہب میں وضاحت کے ساتھ نہیں ملتا اور وہ عہد ہے انبیاء کے انبیاء سے تعلقات کا عہد اور انبیاء کی امتوں کے بعد میں آنے والے دوسرے انبیاء کے ساتھ تعلق کا عہد۔غرضیکہ یہ عہد کا سلسلہ ایک مکمل دائرہ اختیار کر لیتا ہے۔فرمایا: وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِفْ قَالُوا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوْا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ القَهِدِينَ ( آل عمران 82:3 ) اور جب اللہ نے نبیوں کا میثاق لیا کہ جبکہ میں تمہیں کتاب اور حکمت دے چکا ہوں پھر اگر کوئی ایسا رسول تمہارے پاس آئے جو اس بات کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لے آؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔کہا کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس بات پر مجھ سے عہد باندھتے ہو؟ انہوں نے کہا (ہاں) ہم اقرار کرتے ہیں۔اس نے کہا پس تم گواہی دو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔یہاں کتاب سے مراد تو ظاہر ہے وہ آیات الہی ہیں جو نبی پر نازل ہوتی ہیں۔ان میں اوامر بھی ہوتے ہیں اور نواہی بھی۔اس وحی کو کتاب کہا جاتا ہے اور حکمت اس کتاب میں مضمر وہ فلسفہ ہوتا ہے جو نبی پر ظاہر فرمایا جاتا ہے اور وہ اپنی امت کو اس کے مطابق تعلیم دیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے دونوں کام بیان فرمائے۔فرمایا: يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ الجمعة 3:62) وہ کتاب کی ظاہری تعلیم بھی دیتا ہے اور اسکا فلسفہ، اس کے پوشیدہ راز بھی ان کو سمجھاتا ہے۔