عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 191

بندہ سے النت خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاهدات ميثاق النبيين : 191 جہاں تک انبیاء کی ذات کا تعلق ہے وہ عہد لینے کے مجاز بنائے جانے سے پہلے خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسے عہد کے رشتے میں باندھے جاتے ہیں جو عام انسانوں کے عہد سے بالا تر ہے اور در حقیقت اس عہد سے ہی وہ زمین میں خلیفتہ اللہ ہونے کے مجاز ٹھہرتے ہیں یعنی اس عہد کے بعد ان کے لئے خدا کی رضامندی کے سوا کوئی اور بات کہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔روز مرہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک منصف جب لوگوں سے سچائی پر قائم رہنے کا حلفیہ بیان لیتا ہے تو وہ خود بھی جب اسے منصف بنایا جاتا ہے تو حکومت کے بالا نمائندوں کے سامنے اسی کا ایک حلف اٹھاتا ہے۔چنانچہ اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْطَانُ لِيَسْتَلَ الصُّدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًاO (احزاب 8:33-9) اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے بھی اور نوح سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی ابن مریم سے۔اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا تھا تا کہ وہ سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے۔اور کافروں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔نبیوں سے لئے گئے اس عہد کی تفصیل تو یہاں نہیں بتائی گئی لیکن اسکا مقصد بیان فرما دیا لِيَسْتَلَ الصَّدِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ “ چونکہ انبیاء کو غیروں سے عہد لینے کی نمائندگی عطا کی گئی ہے اسلئے انہیں بھی تو صدق پر کار بند رہنے کے لئے کسی عہد کا پابند ہونا پڑے گا اور یہ وہی عہد ہے جسکا ابھی ذکر گزرا ہے۔پس عہد کے نتیجہ میں ہم سب کی گردنیں خدا کے حضور جھکائی جاتی ہیں اور اس عہد کی رو سے ہم سے جواب طلبی کی جاتی ہے۔اسی لئے فرمایا کہ ہر قوم کے لئے اسکی کتاب اس پر گواہ بنے گی کیونکہ دراصل وہی عہد ہے اور یہ نہیں ہوگا کہ ایک امت کے انسانوں کو کسی دوسری امت کے پیغام کے ساتھ پر کھا جائے اور اس کے مقابل پر ان سے مطالبہ کیا جائے کہ اپنے اعمال کو اس کتاب یا عہد کے مطابق سچا کر کے دکھاؤ۔فرمایا: كُل أُمَّةٍ تُدْعَى إلى كتبها (الجاثية 29:45) ترجمه۔۔۔۔ہر امت اپنی کتاب کی طرف بلائی جائے گی۔