عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 185
کائنات میں۔خدا کا ریکارڈنگ سسٹم 185 صلاحیتیں تھیں اور کن صلاحیتوں سے یہ عاری تھا۔کتنا تیز دوڑا کرتا تھا۔کتنا اس کا قد تھا اور کیا کھاتا تھا۔گوشت خور تھا یا سبزی خور تھا۔عام عادات کیا تھیں بزدل تھا یا بہادر تھا۔بے وقوف تھا یا عقل والا تھا۔گویا ان گنت سال پہلے روئے زمین پر بسنے والے ہر قسم کے جانوروں کے روز مرہ کی حرکات و سکنات اور طرز بود و باش کے نقوش ایک واضح تصویر کی صورت میں ابھرتے چلے آتے ہیں۔اسی طرح مثلاً ایک پرانے ڈھانچے کا سائنسی تجزیہ کرنے سے خواہ وہ جانوروں کا نہیں بلکہ کسی قدیم انسان کا ہو، وہ پورے وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس شخص کا وہ ڈھانچہ تھا وہ مسفلس یعنی آتشک کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرا ہے۔غرضیکہ ہر تحریر محفوظ ہے اور ہر تحریر بول رہی ہے۔انسان اپنی کم علمی کے باوجوداگر خدا کے اس ریکارڈ کو پڑھ رہا ہے تو کتنا بے وقوف ہوگا اگر وہ اپنے آپ کو خدا سے محفوظ سمجھے اور یہ گمان کرے کہ اس کے تمام اعمال ماضی میں دفن ہو چکے ہیں اور کبھی اسے مجرم ثابت کرنے کے لئے اس کے سامنے انکی شہادتیں پیش نہیں کی جاسکیں گی۔وہ جس نے سب کچھ پیدا کیا وہ اس نظام کی مخفی تحریرات کو آجکل کے آرکیالوجسٹس (Archaeologists) کی نسبت بہت بہتر سمجھ سکتا ہے۔اگر انسان باریکی سے اس سارے نظام کا مطالعہ کرے تو اتنا خوف زدہ ہو جائے کہ اسکا جینا حرام ہو جائے۔ہم مخفی سے مخفی آواز جو اس کے دل میں پیدا ہوئی اور ابھی الفاظ میں نہیں ڈھلی اسکو ریکارڈ کرنے کا نظام بھی موجود ہے۔انسان جواب طلبی کے دن سے کیسے بچ سکے گا!۔چنانچہ آنحضرت ﷺ اس نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہر چیز دوبارہ اکٹھی کی جائے گی اور گواہ کے طور پر پیش کی جائے گی اس کے ساتھ ایک اور مضمون کو شامل کر دیتے ہیں اور وہ مغفرت کا مضمون ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک تمثیل بیان فرمائی کہ ایک شخص بڑا ہی گنہ گار تھا۔اتنا گنہ گار تھا کہ گناہ کی جتنی بھی قسمیں ہیں، جن تک بھی اسکی رسائی تھی وہ سارے گناہ کر لئے اور اپنی ہر حسرت پوری کر لی اور جب مرنے کے قریب آیا تو اسے کامل یقین تھا کہ چونکہ اس سے زیادہ بڑھ کر گنہگار کوئی نہیں ہو سکتا اسلئے لازم وہ تو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔چنانچہ اس نے اپنے بچوں کو اکٹھا کیا اور نصیحت کی کہ جب میں مرجاؤں گا تو تم مجھے جلا کر خاکستر کر دینا پھر اس راکھ کو ہواؤں میں اڑا دینا اور پانیوں پر بکھیر دینا یہانتک کہ وہ زمین پر ، ہواؤں میں اور پانیوں میں بکھر کر ہمیشہ کے لئے نابود ہو جائے۔یہ نصیحت کر کے وہ مر گیا اور اسکی اولاد نے ایسا ہی کیا۔آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ قیامت کے دن خدا ہوا کو یہ حکم دے گا کہ اس شخص کے ان تمام ذرات کو جن کو تو اڑائے لئے پھرتی تھی اکٹھا کر اور خشکیوں کو حکم دے گا کہ جہاں جہاں وہ ذرے ہیں ان کو یکجا کرو اور پانیوں کو حکم دے گا