عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 184
184 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم ہم ریکارڈ کرتے چلے جارہے ہیں اور جو واقعہ بھی گزر جاتا ہے اس کے گہرے نقش موجودات پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارے اعمال کے آثار مٹتے مٹتے کالعدم ہو جاتے ہیں بلکہ جو کچھ تم کرتے ہواس کے نقوش تمہارے گردو پیش اور خود تمہاری ذات میں بطور گواہوں کے مرتسم ہوتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے طور پر آپ کے الفاظ میں قرآن مجید میں فرمایا: يُيُنَ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرُدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَوتِ اَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللهُ إِنَّ اللَّهَ (لقمان 17:31) لَطِيفُ خَبِيرٌ ترجمہ:۔اے میرے پیارے بیٹے ! یقیناً اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی چیز ہو پس وہ کسی چٹان میں ( دبی ہوئی ) ہو یا آسمانوں یاز مین میں کہیں بھی ہو، اللہ ا سے ضرور لے آئے گا۔یقینا اللہ بہت باریک بین (اور ) باخبر ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اس کائنات میں شہادتوں کو منضبط کرنے والا ایسا نظام جاری ہے جس کی شہادتیں کبھی بھی مٹائی نہیں جاسکتیں۔اُس زمانے میں انسان کے تصور یا خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ کوئی ایسا نظام موجود ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے مگر وہ مسلسل ہر قسم کے رونما ہونے والے واقعات کو منضبط کرتا چلا جاتا ہے۔مگر یہ آیات صاف بتارہی ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو لازماً ایک عالم الغیب والشہادہ ہستی مطلع فرما رہی ہے۔چنانچہ آج اگر آپ کسی PALANATARIUM میں جا کر دیکھیں کہ اٹھارہ یا بیس بلین سال پہلے کی جو آواز BIG BANG سے پیدا ہوئی تھی اس کے آثار باقیہ آج تک قائم ہیں اور ان ہی کو بڑھا کر وہ آواز پیدا کر کے دکھاتے ہیں کہ یہ وہ آواز تھی جو آج سے اٹھارہ یا بیس بلین سال پہلے کے عظیم دھماکے سے ظہور میں آئی تھی۔اور یہ کبھی بھی کلیتہ نا پید نہیں ہو سکتی۔محققین زمین کھودتے ہیں تو لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں سال پہلے کے آثار ان کو نظر آتے ہیں اور ہر اثر اپنے زمانہ کی ایک روئیداد پیش کرتا ہے گویا سرگذشت کہانی بیان کر رہا ہے اور وہ کہانی اتنی تفصیل سے لکھی ہوئی ہے کہ جیسے جیسے انسانی علم ترقی کرے گا اور بھی باریک در باریک نکات اس پر منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔کروڑ ہا سال پہلے جو چیزیں زمین میں مدفون ہوگئی تھیں، وہ جاندار جن کی جنس ہی دنیا سے نا پید ہو چکی ہے انکی ہڈیاں اور جسموں کے بنیادی خلیے حیرت انگیز طور پر اسطرح محفوظ کر دئیے گئے ہیں کہ آج کا محقق جس جانور کی لاش کو دیکھتا ہے وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس جانور کا حال کیا تھا۔اس کو کیا بیماریاں تھیں اور اس کے اندر کیا