عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 186

186 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کہ ان ذروں کو دوبارہ اگل دو جوان میں ڈوب گئے تھے اور ان کو اکٹھا کر کے دوبارہ وہی وجود پیدا فرمادے گا اور پھر اس سے پوچھے گا کہ تم نے کیوں ایسا کیا تھا۔کیا تم مجھ سے بھاگنا چاہتے تھے؟ ( یاد رہے کہ رسول اللہ کے یہ الفاظ تمثیل کے طور پر ہیں۔اس کو ظاہر پر محمول کرنا کم نہی ہوگی۔مراد صرف یہ ہے کہ انسان کی کچھ پیش نہیں جاسکتی اس نے جو کچھ کہا وہ انمٹ تحریروں کے طور پر ہمیشہ محفوظ رہے گا۔) تو وہ جواب دے گا کہ اے خدا! میں تجھ سے بہت ڈرتا تھا۔میرے دل میں ان گناہوں کے باوجود تیری خشیت ضرور تھی۔پس میں نے تیرے خوف کی وجہ سے تیری عقوبت سے بچنے کے لئے یہ ترکیب سوچی۔تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو مجھ سے ڈرتا رہتا ہے میں اسکو معاف بھی کر سکتا ہوں۔چنانچہ سب سے بڑے گناہ گار کو اس پر کامل مقدرت حاصل کرنے کے بعد خدا تعالیٰ معاف فرما دے گا۔(45) یہ گناہوں پر جرات دلانے والا مضمون نہیں بلکہ خوف کی حالت میں لرزاں ہونے والوں کے لئے اس میں نجات کا پیغام ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ تمہارے دل کی کوئی نیک کیفیت، کوئی پاک ارادہ خدا کے ہاں مقبول ہو جائے۔اس لئے اسکی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔لیکن یہ نہ سمجھنا کہ تم خدا کو دھوکہ دے لو گے یا اس سے کوئی چیز چھپا لو گے۔لوگوں میں عام طور پر باوجود اسکے کہ جانتے ہیں کہ خدا کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا لاشعوری طور پر ایسی حرکتیں سرزد ہوتی رہتی ہیں جو عملاً خدا کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوتی ہیں۔بچوں میں بھی یہ بات دکھائی دیتی ہے۔مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ایک دفعہ میں نے ایک چھوٹے لڑکے کو بڑی تیزی کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا۔وہ اس قدر تیزی سے ٹکریں مار رہا تھا کہ اس تیز رفتاری کے ساتھ قیام، رکوع اور سجود میں کچھ پڑھا جاہی نہیں سکتا۔مثلاً سجدے میں تین وقعه سبحان ربی الاعلی پڑھنا ہو تو اسکے لئے کچھ تو وقت چاہیئے۔تو میں نے بڑے پیار سے اسکو سمجھایا کہ دیکھو اس تیز رفتاری کے ساتھ پڑھنے سے کچھ بھی فائدہ نہیں کیونکہ یہ مضمون سے خالی نماز ہے۔اس نے کہا کہ اللہ میاں ٹوں ٹرخار ہیاواں پڑھنا کتنے ائے یعنی پڑھنا تو میری نیت ہی نہیں ہے۔میں تو ادا ئیگی فرض کر کے اللہ تعالیٰ کوٹر خا رہا ہوں۔ٹرخانے کا بعینہ صحیح ترجمہ تو مشکل ہے مگر مراد اسکی یہ تھی کہ ظاہری طور پر فرض پورا کر کے اپنے سر سے یہ بوجھ اتار رہا ہوں۔وہ تو ایک جاہل بچہ تھا لیکن واقعتہ بعض بڑے بڑے عالم، بڑے قابل لوگ جو مذہب کی باریکیوں سے بھی واقف ہیں اپنی ساری زندگی اسی قسم کے مکر و فریب میں ضائع کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خدا کا حساب بے باق کر دیا۔خدا تعالیٰ کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا جیسا کہ مندرجہ ذیل آیات ظاہر کرتی ہیں: 661 شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ