عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 181
ايك نئی قسم کی شهادت 181 ہے اور بار بار جو آخری زمانہ میں مہدی معہود اور مسیح موعود کے ظہور کی خبریں ملتی ہیں وہ لازماً اسی شاہد کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔پس یہ ایک ایسا عظیم اور پختہ اور ایک دوسرے سے مربوط شہادتوں کا نظام ہے جسکی مثال اس سے باہر دکھائی دینی مشکل ہے۔آنحضرت ﷺ کی صداقت پر اس دور کی ایک ناقابل تردید شہادت جب آپ نے دعوی کیا: اب آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید کی صداقت پر اس زمانہ کی گواہیوں کا قرآن کریم میں جو ذکر ملتا ہے وہ پیش کیا جاتا ہے۔یعنی اس دور کی گواہیاں جسمیں قرآن نازل ہو رہا تھا اور حضور اکرم ہے جسم عصری دنیا میں موجود تھے۔فرمایا: قُلْ تَوْشَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرِيكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ اس پر (یونس 17:10) تو کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں تم پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ ( اللہ ) تمہیں پر مطلع کرتا۔پس میں اس ( رسالت ) سے پہلے بھی تمہارے درمیان ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں، تو کیا تم عقل نہیں کرتے ؟ یعنی بچپن سے لے کر جوانی اور جوانی سے لیکر جوانی ڈھلنے تک کا عرصہ یعنی میرے دعوئی سے پہلے کی زندگی تمام تر اس بات پر گواہ ہے اور تم خود اس دور کے لمحہ لمحہ سے خوب واقف ہو کہ یہ تمام زندگی ہر قسم کے عیب سے پاک تھی۔اور اس تمام عرصہ میں ایک ادنی سا بھی جھوٹ کا شبہ تک کسی کی طرف سے میرے متعلق عائد نہیں کیا گیا۔اور جہاں تک امانت کا تعلق ہے تم ہی لوگ ہو جنہوں نے مجھے امین کا لقب دے رکھا تھا۔پس اس پہلو سے مخاطب کو جو بالخصوص اہل مکہ تھے ایک ایسے رنگ میں صداقت پر گواہ ٹھہرادیا گیا کہ جس کا انکار ان کے لئے ناممکن تھا۔یہاں جونکتہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ من قبلم کی شرط بھی لگا دی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ میری ساری زندگی آج بھی تمہارے سامنے گواہ ہے۔سب انبیاء کا یہی حال ہے۔دعوی کے بعد تو دنیا کا ہر عیب اسکی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے اور کوئی نبی اس سے مستثنی نہیں۔ان کے دعوی سے پہلے اور ان کے دعوی کے بعد کی زندگی میں ان سے بالکل مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔وہی جو سب سے زیادہ سچے