عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 182

182 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کہلاتے تھے ،سب سے زیادہ بڑھ کر جھوٹے کہلانے لگتے ہیں۔یہ تو ممکن ہے کہ دشمن نبی کے دعویٰ کے بعد یہ الزام لگائے کہ تمہاری اپنے دعوی سے پہلے کی زندگی بھی داغدار تھی لیکن دعوئی سے پہلے دشمن کا اس پر ایسا الزام لگانا ہر گز ثابت نہیں۔پس قرآن کریم کی یہ تفریق بہت ہی حکیمانہ تفریق ہے اور اسمیں ایک ایسی دلیل پیش کی گئی ہے جو بیک وقت کل عالم کے ہر زمانے کے ہر نبی کی صداقت پر گواہ بن جاتی ہے۔دعویٰ سے پہلے تو انبیاء سے قوم کی بہت نیک امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔اس شخص کو جس نے بعد میں نبوت کا دعویٰ کرنا ہو یہ خیال آہی نہیں سکتا کہ میں نے آئندہ جا کر تھیں یا چالیس سال کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا ہے اس لئے ابھی سے اپنے نقائص کو چھپا کر رکھوں۔اس نوع کی شہادت کو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی پر بھی چسپاں کر کے دیکھیں تو بعینہ وہی نتیجہ سامنے آئے گا جو اس سے پہلے انبیاء کی صداقت پر اس شہادت کا اطلاق کرنے کے نتیجہ میں نکلتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا دعوی تک آپ جائزہ لے کر دیکھ لیں تمام ہندوستان میں آپ دن بدن زیادہ معروف ہوتے چلے جارہے تھے۔قادیان کے قریبی حلقوں میں ہندؤوں نے آپ کو بڑے غور اور قریب سے دیکھا۔آپ کا بچپن دیکھا، آپ کی جوانی دیکھی، جوانی کو ڈھلتے دیکھا۔پھر بڑھاپے کی عمر میں قدم رکھتے ہوئے دیکھا۔سکھوں نے بھی دیکھا، دہریوں نے بھی دیکھا، عیسائیوں نے تبھی دیکھا۔ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے اور آنے جانے والے غرباء نے بھی دیکھا اور امراء نے بھی دیکھا۔جتنی گواہیاں اس دعوی سے پہلے ملتی ہیں وہ ساری گواہیاں حیرت انگیز طور پر آپ کی صداقت کی تائید اور اخلاق کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہیں۔ایک گواہی بھی نہیں جو اشارہ بھی آپ کی ذات میں موجود کسی بدی کی طرف انگلی اٹھا رہی ہو۔یہ گواہیاں تو ملتی ہیں کہ بچپن سے ہی آپ مسجد کے ہو چکے تھے۔غرباء کے ساتھ یہ سلوک تھا کہ جو کھانا گھر سے ملتا تھا وہ گھر میں کھانے کی بجائے لیکر باہر آجایا کرتے تھے اور غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔غرضیکہ آپ کے بچپن اور جوانی کے متعلق جتنی گواہیاں ملتی ہیں اپنوں کی ہوں یا غیروں کی یہی بتاتی ہیں کہ وہ ایک پاک نفس خدا سے تعلق رکھنے والا پاکباز بچہ تھا۔وہ لوگ جو مسلسل اس طرح غرباء کے لئے قربانیاں کریں، بنی نوع انسان کی خدمت کریں اور کبھی کسی نے ان کے متعلق نازیبا الزام نہ لگایا ہو اور ان کے سامنے وہ عین جوانی اور ادھیڑ عمر تک پہنچیں جو ہر قسم کے عیوب سے پاک ہو ان پر بلاشبہ یہ گواہی صادق آتی ہے۔فقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون -