عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 180
180 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم اسی مضمون کی دوسری آیات سورۃ البروج کی حسب ذیل آیات ہیں: وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودِة قُتِلَ أَصْحَبُ الْأَخْدُودِةُ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودة وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ (البروج 82:85 ) ترجمہ قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔اور موعود دن کی۔اور ایک گواہی دینے والے کی اور اس کی جس کی گواہی دی جائے گی۔ہلاک کر دیئے جائیں گے کھائیوں والے۔یعنی اس آگ والے جو بہت ایندھن والی ہے۔جب وہ اس کے گرد بیٹھے ہوں گے۔اور وہ اس پر گواہ ہوں گے جو وہ مومنوں سے کریں گے۔ان متعدد گواہیوں کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا نبی جس کا زمانہ قیامت تک کے لئے ممتد کر دیا گیا ہو اور زمانے کے لحاظ سے کبھی بھی اس کا دور ختم نہ ہو اگر اس کے حق میں شھادتیں صرف ماضی سے تعلق رکھتیں یا اس کی زندگی تک محدود رہتیں تو آئندہ آنے والی دنیا کے لئے ان کی محض ایک تاریخی حیثیت رہ جاتی۔قرآن کریم میں بعد میں آنے والے ایک عظیم الشان گواہ کا ذکر ہونا آپ کے حق میں دی جانیوالی سابقہ موسوی شہادت کو بھی غیر معمولی تقویت پہنچاتا ہے۔یہ محض ایک پیشگوئی نہیں بلکہ اس آسمانی گواہ کے حق میں جو نا قابل رڈ گواہیاں اس زمانہ کی طرف سے دی جانی تھیں، ان کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے اور وہ گواہیاں پوری ہو کر نہ صرف اس کے حق میں عظیم الشان چمکتے ہوئے نشان بن گئیں بلکہ اس سے آنحضور کے حق میں اس عظیم گواہ کی اپنی گواہی بھی ایک نا قابل رد شہادت بن گئی۔ضمنا يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ کے الفاظ میں یہ پیشگوئی بھی موجود تھی کہ وہ اس کا تابع اور اسی کی امت میں سے ہوگا۔تعجب کی بات ہے کہ آج کے مسلمان رسول اللہ علیہ کی اس عظیم الشان فضیلت کو نظر انداز کر رہے ہیں اور سوچ ہی نہیں رہے کہ وہ شاہد کون ہو گا اور کیسے آئے گا۔یاد رکھیں کہ یہاں لازماً ایک نئے وجود کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جو بعد میں پیدا ہوگا اور وہ اتنا عظیم الشان گواہ ہوگا کہ امت میں پیدا ہونے والے دیگر صاحب مرتبہ بزرگوں سے اسکا مقام ممتاز اور الگ ہوگا۔فرمایا يَتْلُوهُ شَاهِدٌ منه اسکا ایک معنی یہ ہے کہ ایسا عظیم الشان گواہ ہے کہ جسے خدا اپنی طرف سے بھیجے گا۔اس نظام شہادت کی جو قرآن مجید نے پیش فرمایا ہے حدیث بھی بڑی وضاحت سے تائید فرماتی ا