عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 7

تین بنیادی تخلیقی اصول 7 کروں گا یہ محض کوئی دعوی نہیں بلکہ ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے اور عدل کا مضمون جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس قدر وسیع ہے کہ بلا شبہ ساری کائنات پر حکمران ہے۔نیز یہ مضمون محض وسیع ہی نہیں بلکہ بہت گہرا اور لطیف بھی ہے اور کائنات کے مخفی در مخفی اسرار کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔پس خدا تعالیٰ فضل فرمائے تو آج کی اس مجلس میں جس حد تک بھی ممکن ہوا عدل کا مضمون قرآنی آیات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔آج انسانیت کو اس عالمگیر نظام عدل کے اطلاق کی اشد ضرورت ہے۔وہ تمام بیماریاں جو انسانی تعلقات کو مکدر اور آلودہ کر رہی ہیں، عدل ہی کے عدم نفاذ کی پیداوار ہیں۔بنی نوع انسان کو اس کی اتنی شدید ضرورت ہے کہ اگر ہم نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں تمام بنی نوع انسان کو عدل سے روشناس نہ کرایا تو یہ دنیا گمراہی اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی اور انسان ، انسان کے ہاتھوں شدید اذیت اٹھاتا رہے گا۔اس لئے یہ ہمارا انتہائی اہم فریضہ ہے کہ ہم دنیا کو عدل مطلق کے اس قرآنی اصول سے روشناس کرائیں۔قرآن کریم کی جامع ترین آیت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مذکورہ بالا آیت پر غور کیا تو وہ بے ساختہ پکارا تھے کہ یہ قرآن کریم کی جامع ترین آیت ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر مفسر قرآن صحابی کا یہ تبصرہ کوئی معمولی اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ قرآن کریم پر ان کے عمر بھر کے فکر و تدبر کا ثمرہ ہے۔بالفاظ دیگر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہماری توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرواتے ہیں کہ یہ آیت قرآن کریم میں بیان فرمودہ تمام مضامین سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے علاوہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک بھی یہ آیت ایک خاص شان کی حامل تھی۔چنانچہ جمعہ کے خطبہ ثانیہ میں اس آیت کی باقاعدہ تلاوت کا رواج حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے شروع ہوا۔اس پہلو سے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بعد کے تمام مسلمانوں پر یہ ایک بہت بڑا احسان ہے۔اس آیت کریمہ نے مومنوں پر جو گہرا اثر چھوڑا یہ اس کی دو ایسی مثالیں ہیں جو میں نے اپنا نقطہ نظر مزید واضح کرنے کیلئے دی ہیں تاہم اس آیت کے اثرات مسلمانوں پر ہی دکھائی نہیں دیتے بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض شدید معاندین بھی اس آیت کی