عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 6
6 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول عام کریں گے جو ان پر کوئی حق نہیں رکھتے۔اس مضمون کو قرآنی اصطلاح میں احسان کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ احسان کے اصطلاحی معانی میں اور مضامین بھی شامل ہیں۔جب یہ اصطلاح بندہ اور خدا کے تعلق میں استعمال ہوتی ہے تو اسی نسبت سے اس کے معانی بدل جاتے ہیں۔جس کا ذکر آئندہ مناسب موقع پر کیا جائے گا۔انشاء اللہ۔تیسری اصطلاح ایتا عوذی القربی ہے، جو اس آیت کریمہ میں استعمال کی گئی ہے۔اس سے ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے لطف و احسان کا سلوک کرنا۔اس لحاظ سے ہم سے یہ توقع کی گئی ہے کہ ہم دوسروں سے احسان کا سلوک اس رنگ میں کریں کہ ہمارے اندر کسی قسم کا احساس تفاخر پیدا نہ ہو بلکہ یہ سلوک ہم اس رنگ میں کر رہے ہوں گویا ایک فرض ادا کر رہے ہیں نہ کہ دوسروں پر احسان۔اس آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں تین ایسی صفات بیان کی گئی ہیں جن سے مومنوں کو بچنا چاہئے۔یہ ان تین صفات کے مقابل پر ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مومنوں میں پیدا ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْى يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل91:16) ترجمہ: اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔بے حیائی ، نا پسندیدہ باتیں ، اور بغاوت اول الذکر مثبت صفات یعنی عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کے مقابل پر تین منفی صفات ہیں۔یہ آیت اس قدر وسیع مضامین پر حاوی ہے کہ جب میں نے آج کی تقریر کیلئے اس آیت کا انتخاب کیا تو مجھے خیال آیا کہ اس سال صرف پہلے آدھے حصے پر کچھ کہوں گا۔پھر جب میں نے غور کیا تو ان مضامین کی گہرائی اور گیرائی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا جن پر یہ آیت حاوی تھی۔نئی نئی جہتوں میں علم و حکمت کے ایسے ایسے مضامین کھلنے لگے کہ جن کے ہر زاویے سے علم ومعرفت کا ایک نیا جہان دکھائی دینے لگا۔پھر میں نے سوچا کہ یہ تو ممکن نہیں کہ آج کی مجلس میں آیت کا ایک حصہ بھی بیان ہو سکے اس لئے بہتر ہوگا کہ صرف عدل سے متعلق کچھ کہوں پھر عدل کے مضمون پر غور کیا تو عدل کا مضمون ہی اتنا وسعت پذیر ہو گیا کہ یوں لگا جیسے ساری کائنات پر محیط ہو۔اور جیسا کہ میں بیان