عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 8
8 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول عظمت سے حیرت انگیز طور پر متاثر دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ قریش مکہ کے ایک سردار ولید نے جب یہ آیت سنی تو اس نے کہا کہ : واہ کیسی آیت ہے، کیسی رونق ہے اس کے منہ پر اور کیسی بہار ہے۔“ اس آیت کے تناظر میں نظام عدل تخلیق کائنات میں ایسی وسعت اور خوبصورتی سے کارفرما دکھائی دیتا ہے کہ جس کے اطلاق سے گویا ایک اور جہانِ معنی جنم لیتا ہے جس کے بعد اس سے بھی بڑے درجے یعنی نظام حسن و احسان کا راستہ نکلتا ہے اور اسی نظام حسن و احسان سے ایتا عذی القربی کی عظیم منازل کی طرف راہیں نکلتی ہیں۔آیت کے مضامین کا عالم نباتات اور عالم حیوانات پر اطلاق: تکمیل کی نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک نباتات اور حیوانات کی دنیا بھی عدل و احسان اور ایتاً وذی القربیٰ کے اسی بنیادی نظام کے تابع ہے۔حتی کہ انسان کی سطح تک بلند ہوتے ہوتے یہ مضمون اور بھی زیادہ وسعت اختیار کر جاتا ہے۔اس اصول کے اطلاق کے اعتبار سے مخلوق کو تین طبقات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پہلا طبقہ بے جان مخلوق کا ہے۔دوسرا طبقہ وہ ہے جس کا زمانہ زندگی کے ظہور سے لے کر انسان ، جو کہ ارتقا کی آخری منزل ہے، کے وجود میں آنے تک ممتد ہے۔اور تیسرا اور آخری درجہ صرف انسان سے تعلق رکھتا ہے۔یہ تمام گروہ ایک ہی اصول کے تابع ہیں لیکن اول الذکر دو گرو ہوں یعنی بے جان مخلوقات اور ادنی درجے کے حیوانات میں یہ اصول ایک ایسے قانون کی شکل میں کارفرما دکھائی دیتا ہے کہ جس میں بظاہر شعور کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔یہ قانون کسی شعوری کوشش کے بغیر دریا کے بہاؤ کی طرح ان کی حرکات و سکنات میں جاری وساری رہتا ہے۔قوانین قدرت سے انحراف کا انہیں کچھ بھی اختیار نہیں ہے۔لیکن نسبتاً اعلیٰ درجے کے حیوانات کو جو انسان سے نچلے درجے پر ہیں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے جان مخلوقات کی طرح اپنے فیصلے غیر شعوری طور پر نہیں کرتے بلکہ اپنے وجدان کے تابع رہ کر کرتے ہیں۔وجدان دراصل لاشعور اور مکمل انسانی شعور کے درمیان واقع دکھائی دیتا ہے لیکن تمام انواع حیات میں سے صرف انسان ہی ہے جو اپنے وجدان کی پیروی کرنے پر مجبور نہیں بلکہ اسے شعوری فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو عدل کے رستوں پر چلے اور چاہے تو ظلم اور نا انصافی کی راہ اپنالے۔