عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 175
ايك نئی قسم کی شهادت 18- ایک نئی قسم کی شہادت 175 اب ہم کلی طور پر ایک نئی قسم کی شہادت کی طرف آتے ہیں جو انسانی فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب انکار کرنے والے نبی کی گواہی کے خلاف اکٹھے ہو چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کے دل کی گہرائی سے یہ حسرت اٹھتی ہے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے۔یہ انسانی فطرت کا ایسا راز ہے جو صرف خدائے عالم اور خبیر ہی جانتا ہے۔یقیناً بہت سے مخالفین بھی ایسے ہوتے ہیں جو وقتا فوقتا نبی کی تائید میں ظاہر ہونے والے نشانات پر غور کرتے ہوئے دل سے چاہتے ہیں کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے مگر سوسائٹی کے بندھن انہیں ایسا کرنے کی توفیق نہیں دیتے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ (الحجر 3:15) کہ بسا اوقات وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، دل سے چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔انبیاء کی تائید میں ایسے انداری نشانات بھی اترتے ہیں جو منکرین کے گویا دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور ان پر ہیبت طاری کر دیتے ہیں۔اسی مضمون کا ذکر قرآن کریم کے مختلف الفاظ میں ملتا ہے۔مثلاً حسب ذیل آیت میں۔وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ أَوْتَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللهِ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد 32:13) اور وہ لوگ جو کافر ہوئے انہیں ان کی کارگزاریوں کے سبب سے (دلوں کو) کھٹکھٹانے والی (43) ایک آفت پہنچتی رہے گی یا وہ (تنبیہ) ان کے گھروں کے قریب نازل ہوگی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے۔یقینا اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔لكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا (النساء 167:4)