عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 176

176 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کہ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ تیری طرف اتارا ہے اسے اس نے اپنے علم کی بناء پر اتارا ہے۔اور فرشتے بھی اس کی گواہی دیتے ہیں ، جبکہ اللہ اکیلا بھی بطور گواہ کافی ہے۔فرشتوں کی گواہیاں نظامِ کا ئنات میں رونما ہونے والی وہ گواہیاں ہیں جو فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آتی ہیں۔یہاں لفظ بِعِلمِ نے تحقیق کی ایک کھڑ کی کھول دی ہے۔فرمایا أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ ، اسکا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جو کائنات کا خالق ہے اس نے جو قر آن نازل فر مایا وہ اپنے علم پر مبنی قرآن نازل فرمایا اور خدا کے علم میں جو کائنات کا علم تھا اس میں آنحضرت ﷺ بذات خود شریک نہیں تھے۔دنیا کے علم کے لحاظ سے آپ کو امی قرار دینا ایک بہت ہی مناسب اصطلاح تھی۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو کھجور کے نر پودوں کا بور مادہ پودوں کے بور پر ڈال رہے تھے۔اس پر آپ نے فرمایا اگر ایسا نہ بھی کرو تو بھی پھل اچھا آئے گا۔چنانچہ انہوں نے اس سال ایسا نہ کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھجوروں پر کوئی پھل نہ لگا انہوں نے نبی کریم علیہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی کام ہو تو اس کے بارہ میں خود فیصلہ کیا کرو۔اور اگر کوئی دینی بات ہو تو اس کے بارہ میں میری طرف رجوع کرو۔(44) اس واقعہ سے یہ قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دنیاوی سائنس کا اتنا بھی علم نہیں تھا کہ کھجور کو کس طرح فرٹلائز کیا جاتا ہے۔اس کے باوجود قرآن کریم کا بکثرت سائنسی امور سے پردہ اٹھانا لازماً آپ کا اپنا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام تھا۔نبیوں کی شہادت ایک دوسرے کے حق میں : اللہ کی ذات اور اسکی قدرت اور جبروت اور علم سے متعلق جن گواہیوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ دراصل براہین کی دو دھاری تلوار کا رنگ رکھتی ہیں۔ایک طرف وہ دلائل خدا تعالیٰ کی ہستی اور اسکے وجود، اسکی وحدانیت ، اسکی قدرت اور اس کے علم کامل پر روشنی ڈالنے والی ہیں تو دوسری طرف جس بندہ پر یہ کلام اتارا جاتا ہے اسکی صداقت پر بھی گواہ ہو جاتی ہیں۔کیونکہ اسکی استطاعت سے یہ بات باہر ہے کہ اتنے عظیم الشان علوم غیبیہ پر بذات خود غلبہ پاسکے۔لیکن اس کے علاوہ ایک اور نظام شہادت