عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 174
174 و, عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم وجَعَلَ خِللَهَا أَنْهرًا “ اور اس زمین کے درمیان پانی کے دریا بہا دیے۔" وجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ “ اور اس کے لئے ایسے پہاڑ بنائے جو زمین کو مستحکم کرنے کے لئے اور زندگی کا نظام مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہیں اور جنگا ان انہار سے تعلق ہے جن کا ذکر گزرا ہے۔وَ جَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزا اور دو سمندروں کے درمیان روکیں پیدا کیں۔” الهُ معَ اللهِ “ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود ہے جو یہ سارے کام کر رہا ہے۔بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ‘ ان میں اکثر اس سے بے خبر ہیں۔یعنی یہ بظاہر الگ الگ تخلیقی مظاہر نہ تو اتفاقاً الگ الگ ہونے والے حادثات سے پیدا ہو سکتے ہیں، نہ ہی ایک دوسرے سے آزاد مختلف خلق کرنے والی ہستیوں کی تخلیق کہلا سکتے ہیں۔اگر ایسا ہوتا تو ان کے درمیان اندرونی رابطے اور نظم و ضبط اور ایک ہی اعلیٰ مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہم آہنگی نہ دکھائی دیتی۔یہ بھی عدل کی ایک عظیم الشان مثال ہے۔پانی کو خدا تعالیٰ نے کس طرح رواسی کے ذریعہ ایک دور کی شکل میں بار بار انسان کی زندگی کے قرار کی خاطر اصل حالت کی طرف لوٹا نا شروع کیا۔قرآن کریم نے اس سکیم میں تمام ضروری باتوں کا احاطہ کیا ہے۔جب قرآن کریم انسان کی توجہ اس طرف دلاتا ہے کہ وہ ان باتوں پر غور کرے تو واضح طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کو محض ایک معمولی سا تصور ہوگا کہ یہ سٹم کس طرح کام کرتا ہے۔جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت کا انسان یہ بات جانتا تھا کہ پانی سمندروں سے اٹھایا جاتا ہے۔اور پھر بارش کے ذریعہ جو میدانوں اور پہاڑوں پر برستی ہے، واپس سمندر میں چلا جاتا ہے۔تا ہم اس وقت کے لوگوں کو معمولی سا بھی یہ تصور نہ تھا کہ سائنس کے کون سے اصول پانی کو سمندر سے اوپر اٹھانے اور اسے صاف و شفاف کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ان کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس عمل کے دوران ہائی و ولیج بجلی پیدا ہوتی ہے۔وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ پانی کے بخارات جو ہوا میں معلق ہیں ، ان کو پانی کے قطروں کی شکل میں تبدیل کرنے کے لئے بجلی کی ایک دوسری کی مخالف قوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔