عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 173

الله تعالى فرشتوں اور صاحب علم بندوں کی گواہی کا نظام شَجَرَهَا ءَ إِلهُ مَّعَ اللهِ بَلْ هُمْ قَوْمُ يَعْدِلُونَ آمَنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِللَهَا أَنْهُرَا وَ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزَاء إِلهُ مَّعَ اللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (النحل 62,61:27) ( یہ بتاؤ کہ ) کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ ہم نے پر رونق باغات لگائے۔تمہارے بس میں تو نہ تھا کہ تم ان کے درخت پروان چڑھاتے۔(پس) کیا اللہ کے ساتھ کوئی ( اور معبود ہے؟ ( نہیں نہیں ) بلکہ وہ نا انصافی کرنے والے لوگ ہیں۔173 یا ( پھر ) وہ کون ہے جسنے زمین کو قرار پکڑنے کی جگہ بنایا اور اس کے بیچ میں دریا جاری کر دیئے اور جس نے اس کے پہاڑ بنائے اور دوسمندروں کے درمیان ایک روک بنادی۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی ( اور ) معبود ہے؟ ( نہیں ) بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔پس قرآن کریم کا یہ فرمانا کہ زمین میں قرار بخشنے کی قوت ہم نے عطا کی ہے، اسے ایسا متوازن بنادیا کہ اس میں تم قرار پکڑ سکو۔کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے جو ایسا کرتا ہے۔قرار دینے کے لئے جن حرکات اور موجبات کی ضرورت ہے اگر آپ ان کا مطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہونگے کہ سوائے اس کے کہ ڈیزائن کرنے والا یا اسکا مصور ایک ہوز مین قرار کا موجب بن ہی نہیں سکتی تھی۔لاکھوں ایسے محرکات اور وجوہات موجود ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت کے نتیجہ میں زمین کو قرار کا موجب بنائے ہوئے ہیں۔اور سائنسدان بھی اسکی کوئی تسلی بخش تو جیہہ پیش نہیں کر سکتے کہ یہ سارے ایک دوسرے سے ہم آہنگ اتفاقات کیسے اکٹھے ہو گئے؟ کسی ایک پہلو سے بھی ادنی سا توازن بگاڑ دیں تو زمین قرار کا موجب نہیں رہے گی۔قرار کی حفاظت کے لئے جہاں کہیں بھی عام جاری قوانین میں استثناء کی ضرورتیں پیش آتی رہیں استثنائی قانون بھی رکھ دیا گیا۔اسکی بھی بعض معین مثالیں پہلے پیش کی جاچکی ہیں۔ایک ادنی سا امر بھی زمین کے کسی مقتدر ڈیزائنر کے بغیر خود بخود قرار پکڑنے کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔