عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 170

170 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم ہوسکتا ہے۔پس اہل انصاف صاحب علم لوگ بھی اس بات کے گواہ ہیں اور ان سے اگر آپ پوچھیں خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں کہ کیا تم نے کبھی ایک خدائے واحد و یگانہ کے سوا کسی اور خدا سے رابطہ پیدا کیا یا اس نے تم سے رابطہ پیدا کیا۔اور کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور تھا جس نے ان سے تعلق جوڑا تو آپ بلا شبہ یہی دیکھیں گے کہ کوئی صاحب علم جو سچ بولنے اور انصاف پر قائم ہونے کے لحاظ سے نیک شہرت رکھتا ہو ایسی کوئی گواہی پیش نہیں کرے گا۔وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میرے دل پر کوئی ایک خدا بھی نازل نہیں ہو الیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک سے زائد خدا نازل ہوئے۔گو قرآن کریم کے علاوہ بعض دیگر الہی صحیفوں میں بھی خدائے واحد ویگانہ کی یہ گواہی موجود ہے کہ ایک میں ہی معبود ہوں اور میرے سوا اور کوئی نہیں۔لیکن اس مضمون پر جومزید تفصیلات قرآن کریم نے بیان کی ہیں، دیگر مذاہب انکے بیان سے عاری ہیں۔دہریوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر گواہی: قرآن کریم میں ایک آیت میں ایک ایسی دلیل بھی دی گئی ہے جو انسانی فطرت کے طور پر بیان کی گئی ہے جس کا ذکر سورۃ الاعراف میں یوں کیا گیا ہے: وَإِذْ اَخَذَرَ بُكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَ هُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَاغْفِلِينَ (الاعراف 7 : 173) اور (یاد کرو) جب تیرے رب نے بنی آدم کی صلب سے ان کی نسلوں (کے مادہ تخلیق ) کو پکڑا اور خود انہیں اپنے نفوس پر گواہ بنادیا ( اور پوچھا ) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں۔مباداتم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم تو اس سے یقیناً بے خبر تھے۔اس سے مراد یہ ہے کہ بنی آدم کے صلب سے جتنی بھی ذریات نے پیدا ہونا تھا یا ہوئی ہیں یا آئندہ ہوں گی وہ یہ گواہی ورثہ میں پاتی رہی ہیں یا پائیں گی۔اور صلب کے تعلق میں جیسا کہ قرآن کریم میں مختلف آیات میں یہ بات کھولی گئی ہے صلب کے اندر پیدا ہونے والا وہ مادہ تولید ہے جس کے اندر انسانی زندگی کا اول سے آخر تک مکمل خاکہ موجود ہے۔اور یہ خا کہ اتناتفصیلی ہے کہ انسانی زندگی کے کسی ادنیٰ سے ادنی عمل کو بھی اس سے آزاد اور باہر قرار نہیں دیا جا سکتا۔اور انسانی جسم کا ہر ذرہ