عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 171

الله تعالیٰ فرشتوں اور صاحبِ علم بندوں کی گواہی کا نظام 171 اس خاکے کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس کے اندر یہ پنہاں خا کہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔اسے سائنسی اصطلاح میں جینز (Genes) کا نظام کہتے ہیں اور ہر جین (Gene) کے اندر اس کے انسانی جسم، انسانی دل، انسانی رحجانات، اسکی بیماریوں سے دفاع کی طاقت، اسکی صلاحیتیں ، ہر عمر میں اس کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیاں اور انکی حدود تمام تر تفاصیل کے ساتھ پہلے سے لکھی ہوئی موجود ہوتی ہیں۔جو چیز وہاں نہ ہو وہ پھر انسان کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں کر سکتا۔یہ مضمون چونکہ بہت وسیع ہے یہانتک کہ جیسا کہ میں مضمون کے پہلے حصہ میں ذکر کر چکا ہوں محض ان جینز (Genes) پر لکھی ہوئی تحریروں کو ہی پڑھنے میں اور انہیں کتابوں کی صورت میں منضبط کرنے میں سائنسدانوں کو نسلاً بعد نسل محنت کرنی ہوگی اور جو کچھ معلومات اب تک حاصل ہو چکی ہیں صرف ان کو ہی اگر ضابطہِ تحریر میں لایا جائے تو سینکڑوں بہت ضخیم کتب لکھی جاسکتی ہیں۔پس اول تو قرآن مجید کی اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے وجود کا تصور کسی ایک زمانے یا کسی ایک نسل کے انسان سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ نسل آدم اس تصور کو ورثہ میں پاتی ہے یہانتک کہ دہر یہ بھی اگر اپنے نفس پر غور کریں تو انکو اپنے وجود کے اندر ہی خدا کی ہستی کی تحریری گواہیاں دکھائی دیں گی۔اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص شعوری طور پر خدا کا قائل ہوتا ہے۔اگر یہ مراد ہوتی تو لفظ علی استعمال کر کے یہ نہ فرمایا جاتا کہ ان میں سے بہت سے دہریہ ہونگے۔اور یہ اندرونی گواہی انکی دہریت کے خلاف کھڑی ہو جائے گی۔اس پہلو سے ایک اور آیت کریمہ بھی اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے انسان کی توجہ اس طرف مبذول فرماتی ہے۔سَنُرِيهِمْ أَيْتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ( حم السجدہ 54:41) کہ خدا کی ہستی کے دلائل تمام کائنات میں پھیلے پڑے ہیں لیکن اگر کائنات پر غور کی توفیق نہ ہو تو اپنے دلوں ، اپنی جانوں پر ہی غور کر کے دیکھو تو تمہیں اندر سے ہی خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت کی شہادت ملے گی۔لیکن شرط یہ ہے کہ اسبارہ میں تدبر سے کام لو۔یہ کیا تعجب کی بات نہیں کہ دنیا کے ہر خطہ میں خدا کا تصور موجود ہے۔خدا کا تصور تو آسٹریلیا کے Aborigines ہوں یا امریکہ کے Red Indians دونوں میں یکساں موجود ہے۔غرضیکہ نہ تو صرف خدا کی ہستی کا تصور موجود ہے بلکہ خدا کا اپنے بندہ سے انذار یا خوشخبری کی