عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 169
الله تعالى فرشتوں اور صاحب علم بندوں کی گواہی کا نظام 169 اسکے سوا اگر کوئی دوسرے معبود بھی ہوتے تو کل عالم میں انکی آواز سے شور بپا ہو جا تا کہ ہم بھی ہیں، ہم بھی ہیں ، ہم بھی ہیں۔مگر ایسا نہیں ہوا۔پس مذہب کی دنیا جو خدا کی ہستی کی قائل ہے اس کے لئے مذہب کی دنیا میں خدا کی اس گواہی کے سوا اور گواہی ہے ہی نہیں جو اسکی تردید کر رہی ہو۔جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو خدا کی ہستی کے قائل نہیں ہیں ان کے لئے ایک اور طرح کی گواہی بھی قرآن کریم میں پیش کی گئی ہے جسکا میں بعد میں ذکر کروں گا۔ملائکہ کا مضمون جو قرآن کریم میں مختلف جگہ پھیلا پڑا ہے اس کے متعلق جو عارفانہ تشریح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے اس تشریح کی رو سے ملائکہ ہر طبعی قوت کے سردار ہیں اور ان کے تابع دنیا کی تمام طبعی قوتیں جاری و ساری ہیں۔ساری کائنات میں جو بھی نظام ہے جسے سائنس کی دنیا میں آپ فزکس کا نظام کہہ سکتے ہیں یا کیمسٹری کا نظام کہہ سکتے ہیں یا بانی یا زوالوجی یا دیگر نام ان سائنسوں کے رکھ دیجئے ، جتنا بھی کائنات میں قانونِ قدرت کا نظام جاری ہے بلکہ ہر نظام کے اوپر ایک فرشتے کا پہرہ ہے جو نگران ہے اور اس کے تابع یہ نظام چل رہا ہے۔اس لئے قانونِ قدرت کو جو خود بخود جاری و ساری دیکھتے ہو تو یہ درست نہیں ہے۔اس سلسلہ میں جب آپ ملائکہ کی اس گواہی پر غور کرتے ہیں تو خواہ ملائکہ کے وجود کو تسلیم کریں یا نہ کریں گواہی بہر حال یہی رہے گی کہ نظام کائنات ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہم آہنگ ہے کہ اگر کوئی اسکا خالق ہے تو ایک ہی ہے اور صرف ایک ہے۔ایک سے زائد خالق و مالک کا تصور کائنات کی گواہی کے مقابل پر ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ساری کائنات زبان حال سے ایک ہی خالق کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔دوسری ملائکہ کی گواہی یہ ہے کہ ملائکہ دلوں پر نازل ہوتے ہیں اور دلوں پر نازل ہونے کے بعد یہ گواہی دیتے ہیں۔تمام دنیا میں ملائکہ کے نزول کے متعلق جو بھی تحریرات ملتی ہیں آپ تعجب کریں گے کہ مشرک مذاہب میں بھی کبھی ملائکہ کی طرف یہ گواہی منسوب نہیں کی گئی کہ وہ نازل ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم صرف ایک خدا کی پوجانہ کرنا اور بھی کچھ خدا موجود ہیں۔66 پھر اُولُوا الْعِلْمِ “ ہیں۔قابِما بِالْقِسْطِ “۔اگر چہ قابِما بِالْقِسْطِ “ کا موصوف اللہ تعالیٰ ہے لیکن چونکہ فرشتوں اور صاحب علم لوگوں کو اس گواہی میں شامل کر لیا گیا ہے اسلئے " قابما “ کا لفظ واحد ہونے کے باوجود ان سب گواہوں پر مضمون کی وحدت کے لحاظ سے چسپاں