عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 151

مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک دوسرے کے خلاف شهادت 151 15- مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک دوسرے کے خلاف شہادت شہادت کے معنوں کا ایک پہلو جو اس دور میں بہت اہمیت حاصل کر چکا ہے وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی شہادت کی صحت ہے۔بہت سے جدید مسلم علماء یہ کہ کر اسلام کے ساتھ سخت نا انصافی کرتے ہیں کہ اسلام کسی مسلمان کے خلاف غیر مسلم کی شہادت تسلیم نہیں کرتا جبکہ کسی بھی غیر مسلم کے خلاف مسلمان کی گواہی ہمیشہ تسلیم کی جانے چاہئے۔اپنی اس دلیل کے حق میں وہ بعض متعلقہ آیات قرآنی کا ایسا ترجمہ کرتے ہیں جسے نہ تو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ثابت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مقدس بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے۔در حقیقت ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک عدل کا دائرہ کار صرف اور صرف مسلمانوں کے مقاصد کی تکمیل تک محدود ہے۔ان کے نزدیک اگر انصاف کا یہی تصور ہے تو پھر نا انصافی کا دور دورہ ہوگا اور عدل و انصاف کا جنازہ ہی نکلے گا۔لیکن قرآن کریم جس عدل کے قیام کی تاکید فرماتا ہے اسے کبھی بھی فنا نہیں ہے۔فرماتا ہے: وَقُلْ أَمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنْ كِتَبٍ ۚ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (الشورای 16:42) ترجمہ: اور کہہ دے کہ میں اس پر ایمان لا چکا ہوں جو کتاب ہی کی باتوں میں سے اللہ نے اتارا ہے۔اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کا معاملہ کروں۔اللہ ہی ہمارا رب اور تمہارا بھی رب ہے۔ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا ( کام ) نہیں ( آسکتا)۔اللہ ہمیں اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔مذکورہ بالا آیت میں صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ سارے بنی نوع انسان کو مخاطب کیا گیا ہے جس میں مختلف مذاہب عالم کے پیرو کار شامل ہیں۔آیت کریمہ بیان کر رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس درجے کے امین ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار بخشا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتے۔ایک طرف تو