عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 150

150 (39) عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم نے اس کی ملکیت دوبارہ حاصل کرنے کیلئے قانونی چارہ جوئی کی۔ایسے مقدمات کی روایت کے مطابق انہوں نے بھی بالکل ایک جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔دعوی یہ تھا کہ مالک مکان طویل عرصہ سے اس زمین پر قابض نہیں تھا بلکہ حال ہی میں اس پر قابض ہوا ہے۔مالک مکان کے پاس اپنی طویل ملکیت ثابت کرنے کا کوئی رستہ نہ تھا۔اس کے پاس اپنے دفاع کا صرف ایک ہی ذریعہ تھا۔جواب دعوی میں اس نے کہا کہ میں کسی اور گواہ کو پیش نہیں کرنا چاہتامدعی کے چھوٹے بھائی کی گواہی میرے لئے کافی ہوگی اور مجھے ہر حال میں قبول ہو گی۔عدالت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بلا کر پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ متنازعہ جگہ پچھلے چند سال سے مد عاعلیہ اور اس کے خاندان کے زیر استعمال ہے؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔جس کے نتیجہ میں عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ آپ کے بھائی کے خلاف کر دیا۔(9) جماعت احمدیہ کیلئے یہ بات انتہائی اعزاز کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی اخلاقی برتری کو دوبارہ ثابت کرنے کیلئے انہیں چنا ہے۔اگر چہ جماعت کے ہر فرد کیلئے روحانیت کے ایسے مدارج پالینا ممکن نہیں پھر بھی بحیثیت جماعت ان کیلئے اسلام کے روحانی اور اخلاقی حسن کا علمبر دار ہونا ممکن ہے۔جب احمدی احیائے اسلام کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ تاریخ اسلام میں کوئی دور ایسا بھی آیا تھا کہ جب اسلامی اقدار سرے سے ہی نا پید ہوگئی ہوں بلکہ اس سے صرف اتنی مراد ہے کہ ہر اگلی نسل اس سر چشمہ کے حقیقی حسن سے دور ہٹ کر تنزل کا شکار ہوتی چلی گئی۔احمدیت کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے کھوئے ہوئے بلند مقام کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔اسلام کو دائی زندگی عطا کرنے کیلئے انہیں اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔