عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 145
امانت اور احتساب (سورة النساء 4: 59) اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ترجمہ: یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقیناً اللہ بہت سننے والا 145 ( اور ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر عملی نمونے نے اس آیت میں پنہاں حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ظالم قوموں کے انجام کے حوالے سے یہ تنبیہ فرمائی: إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمُ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ اَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ۔وَاَيْمُ اللهِ لَو أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا۔ترجمہ : تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا کوئی بڑا اور بااثر آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے۔خدا کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔(34 اس معاملے میں قرآن کریم نے کسی بھی قسم کا کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔چنانچہ کوئی خونی یا ذاتی تعلق انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے بیٹے کا قصہ اس امر کی مزید وضاحت کرتا ہے۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا دیگر منکرین کے ساتھ ہی غرق ہو گیا تھا کیونکہ اس نے بھی آپ کا انکار کر دیا تھا۔تاہم مندرجہ بالا حدیث میں بیان شدہ واقعہ اور حضرت نوح" کے قصے میں نہایت لطیف فرق ہے۔حضرت نوح نے اپنے کافر بیٹے کی نجات کیلئے دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے رد کر دی جبکہ حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود یہ ارادہ ظاہر فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی بی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے کسی جرم کا