عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 146

146 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم ارتکاب کرتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بھی معاف نہ فرماتے۔بعض کا فر کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض دعویٰ تھا۔اگر آپ صلی اللہ یہ وسلم کو اپنے کسی قریبی عزیز کے معاملہ میں عدل اور نرمی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تو ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اور رستہ اختیار کرتے۔احادیث کی مستند کتب میں بیان شدہ مندرجہ ذیل واقعہ ان تمام قیاس آرائیوں کی بکلی نفی کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے چا حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہجرت کے وقت تک مشرف بہ اسلام نہ ہونے کی وجہ سے غزوہ بدر میں قریش مکہ کے ساتھ تھے اور شکست کے بعد بنائے جانے والے جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔انہیں بھی دیگر قیدیوں کی طرح مسجد نبوی میں ایک ستون کے ساتھ کس کر باندھ دیا گیا۔یہاں تک کہ آپ شدت تکلیف سے کراہنے لگے۔آپ کی کراہنے کی آواز سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہو گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آرہی تھی اور کروٹوں پر کروٹیں بدلتے جا رہے تھے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی اور تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے قیدیوں کے نگران نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی رسیاں ڈھیلی کر دیں جس سے انہوں نے کراہنا اچانک بند کر دیا۔ان کے کراہنے کی آواز اچانک بند ہو جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی اور بڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کے پیش نظر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور حکم دیا کہ اگر عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئی ہیں تو پھر باقی تمام قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دی جائیں کیونکہ تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ تم اُن کے ساتھ دیگر قیدیوں کی نسبت کوئی امتیازی سلوک روا رکھو (35) اس سے ثابت ہوا کہ کیا رشتہ دار اور کیا غیر رشتہ دار، کیا دوست اور کیا دشمن ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک سب کے ساتھ عادلانہ اور یکساں تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ قرآن کریم کے اس حکم کی پیروی فرماتے تھے کہ: