عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 144

144 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم 14- امانت اور احتساب قرآن کریم میں استعمال ہونے والا لفظ "امانت" لازماً " احتساب کے مضمون کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا کے تمام جمہوری ادارے امانت کی اس ذمہ داری کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے انہیں اپنے منتخب کرنے والوں کے سامنے بہر حال عہدہ برآ ہونا چاہئے۔اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جوابدہ ہیں جس نے ان کے سپر داپنی امانت کی ہے۔ان جمہوری معاشروں میں جہاں امانتیں ضائع ہو رہی ہوں نا انصافی اور ظلم کا الزام ایسے اداروں یا افراد پر ہوتا ہے جو بیک وقت بنی نوع انسان اور اللہ تعالیٰ دونوں سے کئے ہوئے عہدوں کو تو ڑ رہے ہوتے ہیں۔جب بھی کوئی منتخب شدہ تنظیم یا فردا اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا لازمی نتیجہ مختلف معاشرتی برائیوں کی صورت میں برآمد ہوا کرتا ہے۔چنانچہ انسان عدل و انصاف پر قائم ہونے کی بجائے جبر و استبداد کا مقابلہ کرتے کرتے فنا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم سای دنیا پر ایک ہی قسم کا طرز حکومت نافذ نہیں کرتا کیونکہ ایسا کرنا سراسر عدل کے منافی ہے۔البتہ قرآن کریم کے مطابق حکومت کے سیاسی نظام میں جمہوریت کو دیگر تمام نظاموں پر ترجیح دی گئی ہے۔اسی طرح قرآن کریم ہر قسم کی حکومت سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس احساس کو ہمیشہ مد نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔عوام کیلئے (For the people) کا جمہوری نعرہ ایک مبہم سی بات ہے۔قرآن کریم نے کسی جگہ بھی منتخب شدہ جمہوری حکومتوں کیلئے اس قسم کے الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے عدل وانصاف پر زور دیا ہے۔اس اصول کے مطابق کسی بھی جمہوری ملک میں قانون سازی کا عمل اپنے شہریوں کے حقوق غصب نہیں کر سکتا خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔انہیں بھی دیگر شہریوں کے مساوی حقوق مہیا کئے جانے ضروری ہیں۔سیاسی اکثریت رکھنے والی کسی بھی مجلس قانون ساز کو یہ حق حاصل نہیں کہ قانون سازی کرتے وقت کسی بھی فرد واحد کے بنیادی حقوق کو پامال کرے۔یہ کہ کر کہ ہم اکثریت کے نمائندہ ہیں ایسی کوئی حرکت کرنا ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا۔اس بحث کا ماحصل بیان کرنے کیلئے ہم مندرجہ ذیل قرآنی آیت پیش کرتے ہیں جو اس گہرے مضمون کو نہایت جامعیت کے ساتھ پیش فرماتی ہے: