عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 142

142 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم 13- عدل کا قیام بہر حال ضروری ہے اب ہم قرآنی تعلیمات کے ایک بالکل مختلف پہلو کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو ایک طرف تو افراد کے باہمی تعلق اور دوسری طرف فرد اور معاشرے کے مابین تعلقات سے متعلق ہے۔یہ عا انسانی معاملات میں سیاست کے کردار کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس مضمون پر مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے روشنی ڈالنے والی متعدد قرآنی آیات میں سے ہم نے مندرجہ ذیل چند آیات بغرض وضاحت چنی ہیں۔ان میں سے پہلی آیت ”شہادت“ جیسے اہم مسئلہ سے متعلق ہے۔شہادت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر نیز عدل کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دینی چاہئے جیسا کہ فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِ مَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائده 9:5) ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔پھر فرمایا: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمُ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ انَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (المائدہ 43:5) ترجمہ: اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر۔یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔مندرجہ ذیل آیت بھی عداوت کی نوعیت پر زور دیتے ہوئے اس مضمون کو آگے بڑھاتی ہے کہ جن لوگوں نے تمہیں تمہارے بنیادی مذہبی حقوق سے بھی محروم کر رکھا تھا، ان پر غلبہ پالینے کے بعد ان کی دشمنی کی یاد بھی تمہیں ان کے ساتھ انصاف کرنے سے روک نہ دے چنانچہ فرمایا: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا (المائد3:50)