عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 141
عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کا مقام (33)۔۔141 ان میں سے ایک نماز ایسی ہے جو بہت اعلیٰ مقام کی حامل ہے۔یعنی جورات کے گہرے اندھیرے میں گہری نیند سے اٹھنے کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس قسم کا غیر معمولی مجاہدہ صرف وہی شخص کرے گا جسے خاص قرب الہی حاصل ہے۔یہاں اس کی زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں لیکن ہر کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ نماز ایتاً ء ذی القربیٰ کے دائرے سے تعلق رکھتی ہے۔قرآن کریم خاص طور پر مندجہ ذیل آیت میں نماز تہجد کی غیر معمولی خصوصیت پر روشنی ڈالتا ہے: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجده 17:32) ترجمہ: ان کے پہلو بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں (جبکہ ) وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کی حالت میں پکار رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔سورہ بنی اسرائیل کی مندرجہ ذیل آیت خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرب الہی کے عظیم ترین مقام کا وعدہ دیتی ہے جو ایتاً عذی القربی کے عمومی تصور سے کہیں بڑھ کر ہے: وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (بنی اسرائیل 80:17) ترجمہ: اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔یہ تیرے لئے نفل کے طور پر ہوگا۔قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر فائز کردے۔