عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 137

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا مقام 137 کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔کسی دولتمند کو خواہ اس نے کتنا ہی قیمتی لباس زیب تن کیوں نہ کر رکھا ہو اجازت نہیں کہ وہ اپنے اور کسی غریب نمازی کے مابین فاصلہ رکھے خواہ وہ غریب چیتھڑوں میں ملبوس ہو۔چنانچہ یوں نہ صرف نماز پڑھنے والوں کو ایک امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا حکم ہے بلکہ انہیں واضح طور پر یہ درس بھی دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا مقام ان کی ظاہری جسمانی حالت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہی زیادہ معزز اور مکرم ہے جو خشیت اللہ اور تقوی اللہ میں زیادہ بڑھا ہوا ہے۔یہ امر فیصلہ کن ہے کہ نمازی کو اس کی ہر نماز کا اجر اس کی باطنی کیفیت کے مطابق دیا جاتا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ بظاہر تو تم سب نے ایک ہی طرح نماز ادا کی ہے لیکن در حقیقت ابوبکر کی ایک نماز تمہاری عام نمازوں سے ستر گنا بڑھ کر ہے۔حضرت ابوبکر بہت متقی انسان تھے۔آپ ہمیشہ بڑے انہماک کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے اور اسی خصوصیت کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں مذکورہ بالا رائے قائم فرمائی۔عبادت کے تعلق میں ایتاء ذی القربی کا بہترین اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حسن سلوک سے ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد الہی کے حوالے سے اپنی دائمی حالت و کیفیت کو ایک مرتبہ یوں بیان فرمایا : تَنَامُ عَيُنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي۔ترجمہ: میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔(7 یہ درجہ یقیناً احسان سے بھی اعلیٰ ہے جسے صرف اور صرف ایتا عذی القربیٰ کا ہی نام دیا جاسکتا ہے۔یہ کیفیت کسی حد تک بعض ماؤں کی اس کیفیت سے مشابہ ہے جو ان کے دلوں میں اپنے پیارے بچوں کیلئے پائی جاتی ہے کیونکہ بظاہر جب وہ گہری نیند بھی سورہی ہوتی ہیں تو ان کے ذہنوں میں انہی کا خیال گردش کرتا رہتا ہے۔