عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 138
138 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم مساجد کی آفاقیت: وَانَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ ( سورة الجن 19:72) ترجمہ: یقیناً مسجدیں اللہ ہی کیلئے ہیں۔مساجد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے وقف ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی مومن کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دے۔تمام عبادت گاہیں جن کا مقصد قیام تو حید ہے ، ان کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی نقطہ نظر تھا۔آج سے سو سال قبل کی مسلم دنیا کی صورت حال اس سے بالکل متضاد دکھائی دیتی ہے۔لگتا ہی نہیں کہ ان کی مساجد حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے نمونے پر بنائی گئی ہیں۔وہ تو فرقوں میں تقسیم تھیں کسی ایک فرقے سے تعلق رکھنے والا دوسرے کی بنائی ہوئی مسجد میں قدم رکھنے کی ہرگز جرات نہیں کر سکتا تھا۔اس سے تو وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے جب امریکہ میں گوروں اور کالوں کے چرچ الگ الگ کر دیئے گئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک حبشی ، گوروں کیلئے مخصوص کسی چرچ میں داخل ہونے لگا تو اسے سختی سے روک دیا گیا جس سے اُسے سخت دلی صدمہ پہنچا اور وہ وہیں چرچ کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا اور سسکیاں بھرتے بھرتے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔کیا دیکھتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام خواب میں آکر اس سے پوچھتے ہیں کہ تم اس طرح بلک بلک کر کیوں رور ہے ہو؟ اس نے جوا با عرض کیا کہ کیوں نہ روؤں ؟ میں عبادت کی غرض سے چرچ میں داخل ہونا چاہتا تھا کہ مجھے باہر نکال دیا گیا۔اس پر حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس بے چارے سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: ” میری طرف دیکھو کہ جب سے یہ چرچ تعمیر ہوا ہے میں نے بھی کبھی اس میں قدم رکھنے کی جرات نہیں کی تو پھر تو کیوں روتا ہے؟“ عبادت میں اعتدال: اسلامی عبادت کا ایک اور حسین پہلو یہ ہے کہ رضائے باری تعالیٰ کے حصول کی خاطر اپنی طاقت سے بڑھ کر عبادت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سختی اور انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ فرمایا: