عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 136

136 کی نماز ، باجماعت ہی قبول فرمائے گا۔عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم مندرجہ بالا حدیث میں بیک وقت عدل، احسان اور ایتا و ذی القربی کے تینوں درجات شامل ہیں۔عدل اس طرح کہ کسی کو بھی اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔احسان اس طرح کہ نماز کیلئے کسی کو میسر آنے والی زمین کا ہر ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے مسجد قرار دے دیا ہے اور فرشتوں کو اس کے ساتھ شامل ہونے کا حکم دے کر ایتا ء ذی القربی والی نوازش کا دامن پھیلا دیا ہے۔اسلامی نظام عبادت کی ایک دلچسپ خصوصیت اس سمت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جس کی طرف مسلمانوں کو بوقت نما ز رخ پھیر لینے کا حکم دیا گیا ہے۔اگر انہیں کعبے کی صحیح سمت معلوم ہو تو بوقت نماز وہ قبلہ رو ہو جائیں۔تاہم اگر کوئی سفر میں ہو اور اسے کعبے کی سمت کا صحیح پتہ نہ چل رہا ہو تو پھر وہ جس طرف بھی منہ کر کے نماز ادا کرے گا وہ صحیح سمجھی جائے گی۔مزید برآں اگر کوئی شخص کار یا جہاز وغیرہ میں سفر کر رہا ہے تو قبلہ رو ہونے سے مکمل طور پر رخصت دے دی گئی ہے۔یادر ہے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق نماز کی ادائیگی کو دوسری ہر بات پر فوقیت حاصل ہے۔خواہ کسی بھی قسم کے حالات ہوں کسی کو نماز سے ہرگز رخصت نہیں ہے۔اگر وضو کیلئے پانی دستیاب نہ ہو تو تیم اس کا متبادل بن جاتا ہے۔ہر کوئی اپنی اپنی سہولت کے مطابق نماز ادا کر سکتا ہے۔اگر وہ جسمانی حرکات نہیں بجالا سکتا اور اشارہ سے بھی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز مکمل متصور ہوگی۔مثلاً ایک شدید بیمار شخص جسمانی حرکات کی بجائے اپنی آنکھوں کو ہلکی سی جنبش دے کر نماز ادا کرسکتا ہے۔اُس کیلئے اس قسم کی نماز بھی مکمل سمجھی جائے گی۔بظاہر یہ چھوٹے چھوٹے معاملات ہیں لیکن کوئی اور مذہب ایسی بار یک تفاصیل میں نہیں گیانہ ہی کسی مذہب نے اتنی باریکی سے انسانی ضروریات اور حدود کا اس قدر خیال رکھا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام ایک عالمگیر اور دائی مذہب ہے جو تمام زمانی یا جغرافیائی حدود سے بالا ہے اور مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔حکمرانی در اصل عدل کی ہے۔ہر پیر و جواں اور امیر وغریب ایک امام کی اقتدا میں صف بندی کرتے ہیں۔کسی کو بھی اپنی جگہ مخصوص کرنے کی اجازت نہیں بلکہ جو بھی مسجد میں پہلے پہنچے وہ جہاں چاہے بیٹھ سکتا ہے۔کوئی کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا نہیں سکتا۔سب کیلئے یہ حکم ہے کہ وہ کندھے سے