عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 123

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا مقام 123 یہی تو وہ حظ ہے جو انبیا ء کرام ، اولیاء اللہ اور مقربین الہی اٹھاتے ہیں۔چنانچہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایتا و ذی القربی کے سب سے اعلیٰ مقام پر فائز تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دیا ہوا تھا اور اپنی ذات کی کلیہ نفی کر رکھی تھی۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام 6: 163) ترجمہ: تو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا مرتبہ دوسرے سے الگ ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ کا سلوک بھی ہر ایک کے ساتھ الگ الگ ہوگا۔جب کسی خاص مرتبہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ ایسے لوگ مقام اور درجے کے لحاظ سے برابر ہیں کیونکہ ہر ایک درجہ آگے چھوٹے چھوٹے کئی درجات پر منقسم ہے۔تاہم محض انبیاء کرام ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایتاء ذی القربی کے تعلق کا حظ نہیں اُٹھاتے بلکہ دیگر لوگ بھی اپنے اپنے مقام اور ظرف کے مطابق اس تعلق سے حصہ پاتے ہیں۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رُبَّ أَشْعَتْ أَغْبَرَ۔۔۔۔۔۔۔لَوْاقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَابَرَّهُ۔(17) یعنی بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا کی نظر میں نہایت بے کس اور حقیر ہوتے ہیں لیکن ایسے ہی لوگ ہیں جنہیں خدا کا نہایت قریبی تعلق حاصل ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اگر وہ یہ کہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا ہی کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی لاج رکھتے ہوئے ان کا کہا سچ کر دکھایا کرتا ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے والدین اپنے پیارے بچے سے اور بچہ اپنے والدین سے کچھ توقعات رکھتا ہے اور اس تعلق کی بنا پر دونوں طرف سے ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسے ہم اصطلاحا دعا تو نہیں کہ سکتے لیکن دعا کے تصور کے ساتھ کچھ مشابہ ہے۔بعض اوقات بچہ گھر والوں کو چھوڑ کر باہر جا کر کھانا کھانا چاہتا ہے لیکن گھر والوں کو اس کی نیت کا علم نہیں کہ باہر گلی میں انتہائی غریب بچے اس کا انتظار کر رہے ہیں اور وہ یہ سارا کھانا غریب بچوں میں تقسیم کر کے خود کسی مسجد کے کونے میں جا بیٹھے گا اور اپنی جیب میں پڑے کچھ دانے اور گڑ کھا کر اپنی بھوک مٹالے گا۔ایسا معاملہ یقیناً احسان کی حدود پار کر کے ایتاء ذی القربیٰ کے میدان میں جا داخل ہوتا ہے۔اس سے ملتی جلتی قربانیاں اپنے بچوں کے تعلق میں بعض دفعہ ماؤں سے بھی دیکھنے کوملتی ہیں۔