عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 122
122 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمُ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ءَ الْهُ مَعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (النمل 63:27) ترجمہ: یا ( پھر ) وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی ( اور ) معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔یہاں المُضْطَر سے ایسے لوگ مراد ہیں جو شدید رنج وغم اور در دوالم میں مبتلا ہوں۔بعض اوقات تو ان کا دکھ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ جیسے ان کے دل ابھی پھٹ جائیں گے۔ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ محض انصاف سے ہی کام نہیں لیا کرتا بلکہ اپنے بندوں کے ساتھ احسان کا سلوک فرماتا ہے خواہ ان کے اعمال اس قابل نہ بھی ہوں۔ایک مضطر یعنی بے قرار شخص خواہ ہستی باری تعالیٰ کا منکر بھی ہو بہر حال یہ تو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ عدل کے لگے بندھے اصولوں سے ہٹ کر معاملہ فرماتا اور اضطراری حالت میں اس پر احسان کرتے ہوئے اس کی داد رسی فرماتا ہے۔اذیت میں مبتلا شخص کی فریاد سنی جاتی ہے اور اس کی سابقہ بداعمالیوں سے قطع نظر اس کو قبولیت سے بھی نوازا جاتا ہے۔ایسی مثالیں دنیا بھر میں ملتی ہیں کہ شدید غم وحزن کے وقت کوئی ملحد بھی اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔پس عبادت کے معاملے میں احسان کی یہ علیم ہے۔ان مضطر لوگوں میں بے بس، بے گھر کر دیئے جانے والے اور ستم رسیدہ لوگ شامل ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : اِتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ۔ترجمہ: مظلوم کی بددعا سے ڈرو اگر چہ وہ کا فر ہی ہو کیونکہ اس کی دعا اور اللہ تعالیٰ (16) کے مابین کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔( اللہ تعالیٰ اور انسان کا باہمی تعلق ایتاء ذی القربی کے میدان میں بھی داخل ہو جاتا ہے۔جب کوئی شخص خود کو راہ مولیٰ میں کلیۂ وقف کر دے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کسی قسم کی کوئی دوئی باقی نہ رہے تو وہ ایتا و ذی القربیٰ کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے۔کیونکہ ایسے لوگ کامل طور پر اپنا آپ اللہ تعالیٰ کو سونپ دیا کرتے ہیں۔پھر بظاہر یہ لگتا ہے کہ ان میں کچھ خدائی صفات جلوہ گر ہوگئی ہیں۔