عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 124
124 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم یہ کوئی خیالی باتیں نہیں ہیں بلکہ بانی جماعت احمدیہ ، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے بچپن کی عمر میں تو ایسے واقعات کم و بیش روزانہ ظہور میں آیا کرتے تھے۔انبیاءعلیہم السلام کا اپنے پیروکاروں کی شفاعت کرنا بھی درحقیقت دعا ہی کا ایک اعلیٰ درجہ کا پہلو اور ایتا ء ذی القربیٰ کا اظہار ہے۔اس نقطہ نگاہ سے یہ بات بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام شفاعت کرنے والوں میں سب سے بلند درجے کا وعدہ کیوں دیا گیا ہے۔وہ خدا آج بھی ویسا ہی محسن خدا ہے جس نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے دیگر نیک بندوں پر خاص احسانات فرمائے تھے۔عام حالات میں قوانین قدرت اپنا کام جاری رکھتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کو شفاعت کا اذن عطا فرماتا ہے تو بعض مخفی قوانین عام قوانین کی جگہ لے لیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کئی بار ہوا بلکہ اس زمانے میں بانی جماعت احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے معاملے میں بھی ہم نے بارہا ایسا ہوتے دیکھا ہے۔لیکن بہر حال یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی نئی برکت نہیں ہے جو محض آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص ہو بلکہ یہ انہی برکات کا تسلسل ہے جن کا اس زمانے میں ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہورہا ہے۔وضاحت کی خاطر یہاں صرف ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد حیات نامی ایک طالب علم، جسے طاعون ہوگئی تھی ، کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسے طاعون ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معائنہ کیلئے اپنے پیارے صحابی حضرت حکیم مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجا۔مریض کی حالت دیکھتے ہی انہوں نے طاعون کی ساری علامات اس میں پائیں۔محمد حیات شدید بخار میں تپ رہا تھا، جسم پر چھ گلٹیاں بھی صاف دکھائی دے رہی تھیں اور پیشاب کے ساتھ خون بھی آنا شروع ہو چکا تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ حالات عرض کیسے نیز یہ اشارہ بھی کر دیا کہ مریض کی حالت سے لگتا ہے کہ وہ زندگی کی نسبت موت سے زیادہ قریب ہے۔حضرت حکیم مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ نہایت محتاط الفاظ استعمال فرمایا کرتے تھے جبکہ دنیا میں اطباء اور حکماء بلاتر دو اپنی رائے کا اظہار کر دیا کرتے ہیں اور بالخصوص اس قسم کے کیس میں تو ان کی یہی رائے ہوتی کہ مریض کی موت یقینی ہے۔لیکن چونکہ حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ بخوبی جانتے تھے کہ موت کے بارے میں جب تک امرالہی نہ آجائے تب تک کسی کی موت کے