عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 121

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کا مقام 121 12 عبادت میں عدل، احسان اور ایتا عذی القربیٰ کا مقام عبادت کے جتنے بھی طریق ہیں ان میں نماز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے عدل، احسان اور ایتا و ذی القربی کے تین بنیادی اصولوں کے عین مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔مندرجہ ذیل قرآنی آیت میں عدل کا ذکر ملتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرہ 2: 187) ترجمہ: اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔اس خوشخبری کے ساتھ ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اپنے عبادت گزار بندوں کے بے حد قریب ہے، قرآن کریم اللہ تعالیٰ اور انسان کے مابین موجود عدل کے تعلق پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔عبادت محض یکطرفہ راہ نہیں ہے۔ایک عبادت گزار انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا جیسے کوئی غلام، حکم کی بجا آوری کیلئے دست بستہ کھڑا ہو بلکہ نمازی کو چاہئے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل پیرا ہو۔قبولیت دعا کا بنیادی اصول یہی ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ خوشخبری دیتا ہے کہ خدا اور انسان کے مابین مکالمہ و مخاطبہ کوئی دیو مالائی کہانی نہیں ہے بلکہ ایسی زندہ حقیقت ہے کہ جسے پایا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حق تلفی ہرگز نہیں کرتا لیکن وہ یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ وہ بھی اس کی طرف سے مفوضہ فرائض ادا کریں۔خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے جو ہمیشہ اس کے احکام کے تابع رہتے ہیں۔بنی نوع انسان کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے عدل کی یہ تعلیم از حد ضروری ہے۔تاہم جس خدا کا تصور قرآن کریم پیش فرماتا ہے وہ عادل ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر محسن بھی ہے۔سو اس کے بندے اس کی طرف سے، انصاف سے کہیں بڑھ کر امید رکھنے میں حق بجانب ہیں۔قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے: