عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 93

اسلام مذہبی تعلیمات کا منتهی وَ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوْا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غُفِلِينَ (الاعراف 173:7) ترجمہ: اور (یاد کرو) جب تیرے رب نے بنی آدم کی صلب سے ان کی نسلوں (کے مادہ تخلیق ) کو پکڑا اور خود انہیں اپنے نفوس پر گواہ بنادیا اور پوچھا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ! ہم گواہی دیتے ہیں۔93 مبادا تم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم تو اس سے یقینا بے خبر تھے۔یہ آیت اس حقیقت کی تمثیلی رنگ میں وضاحت کر رہی ہے کہ کس طرح خدا تعالی پر ایمان انسانی فطرت کے بنیادی خدو خال میں شامل ہے۔احتساب اور موروثی گناہ: اسلام نہ صرف افراد کے مابین بلکہ مختلف ادوار میں بھی کامل عدل کی تعلیم دیتا ہے۔اسی اصول کو اگر مذہبی تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہر زمانے میں خدا تعالیٰ نے انسان کے ساتھ عدل کا ہی معاملہ فرمایا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (البقرة 135:2) ترجمہ: یہ ایک امت تھی جو گزر چکی۔اس کیلئے تھا جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماتے ہو۔اور تم اس کے متعلق نہیں پوچھے جاؤ گے جو وہ کیا کرتے تھے۔جہاں تک احتساب کا تعلق ہے تو ہر نسل اپنے اعمال کیلئے اور ہر زمانہ اپنے طرز عمل کیلئے خود جوابدہ ہے۔یہ قرآنی طرز بیان مختلف ادوار میں انسان کی ارتقائی حالتوں کا تناسب ہم پر مزید کھول دیتا ہے۔چنانچہ بنی نوع انسان کا احتساب ان کی اپنی تاریخ کے مخصوص ادوار میں ان کی استعدادوں کے مطابق ہوگا۔وہ اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق اسی طرح پر کھے جائیں گے جس طرح ہم اپنی استعدادوں کے مطابق۔اس تناظر میں قرآنی تعلیمات وقت اور مقام دونوں اعتبار سے اپنے اندر ایک آفاقیت رکھتی ہیں۔انسانی فطرت ایسی عادلانہ تعلیم کو ہی الہی تعلیم گردانتی نیز انسانی اور خدائی تعلیمات کے مابین