عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 94

94 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول تمیز کرنے کی بھی یہی ایک کسوٹی ہے۔اس سلسلے میں موروثی گناہ کے عیسائی عقیدے کا مطالعہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا ہو۔چنانچہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم میں تحریف پولوس نے کی۔بصورت دیگر وہ خدا نہایت درجہ عجیب وغریب ہو گا جو آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک وقتی فروگزاشت پر آپ کو اور آپ کی آنے والی تمام نسلوں کو ہی ہمیشہ ہمیش کیلئے سزا دیتا چلا جائے۔اس سے ہمارا مقصد عیسائیت کی مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دکھانا مقصود ہے کہ انسانی ہاتھوں سے سچائی کو کس طرح مسخ کیا گیا ہے۔موروثی گناہ کے عقیدے کے مختلف پہلوؤں کی بحث میں پڑے بغیر آئیے دیکھیں کہ قرآن کریم کس طرح بیک جنبش قلم اس دعوی کو رد کرتا ہے۔مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے تمہارے آباؤ اجداد کی بداعمالیوں کی بابت ہر گز نہیں پوچھا جائے گا۔وہ صرف اپنے اعمال کے جوابدہ ہوں گے اور تمہیں صرف اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔چنانچہ قرآن کریم یہ اعلان فرماتا ہے کہ: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبى (فاطر 19:35) ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس (کے بوجھ میں) سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا خواہ وہ قریبی ہی کیوں نہ ہو۔یہ آیت کریمہ کفارہ کے عقیدے کا رد کر رہی ہے۔کفارہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلواۃ والسلام صلیب پر جان دے کر دوسروں کی بخشش کا باعث ہو گئے ہیں۔مذکورہ آیت کریمہ یہ اعلان کر رہی ہے کہ کسی موجودہ یا آئندہ نسل سے گزشتہ نسلوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کیلئے نہیں کہا جائے گا۔ایک فرد کا بوجھ کسی بھی صورت میں کسی دوسرے انسان پر نہیں ڈالا جاسکتا خواہ وہ اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے تیار بھی ہو۔در حقیقت اسے انصاف کے ادنی تقاضوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی ! پس اگر انصاف کی ہی بحث ہے تو عہد نامہ جدید ( لوقا23:9) مندرجہ بالا قرآنی آیت کا مضمون ہی بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والوں نے کفارہ کی جو کہانی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کی تھی اس میں آپ علیہ السلام کا کوئی حصہ نہیں تھا۔