عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 92
92 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول اور اسے کسی بھی قسم کا مذہبی انسان بھی بنایا جا سکتا ہے۔اس کی تربیت اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ اس پختہ یقین کے ساتھ بلوغت کی عمر میں داخل ہو کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے۔فرائڈ کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ اسلام اور خدا تعالیٰ کے خلاف یہ دلیل پیش کرتے ہوئے وہ بچے کی پیدائش اور تربیت کے متعلق در حقیقت اسلامی نظریات کی ہی تائید کر رہا ہے۔فرائڈ کے پیدا ہونے سے بہت پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتا چکے ہیں کہ ہر بچہ خدا تعالیٰ کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن بعد ازاں والدین یا پرورش کرنے والوں کے زیر اثر سے کسی بھی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔پھر اسی سے متعلق ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسانی فطرت یا ضمیر کی اصلیت کیا ہے؟ بہت سے مشہور فلسفی اور اہل عقل و دانش اس اصول پر متفق ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ انسان کی فطرت پر اخلاقی تعلیم کی ایک چھاپ ہے۔یہ ایک ایسا نقش ہے جو کسی مخصوص مذہبی تعلیم کے زیر اثر پیدا نہیں ہوا بلکہ اس فطری اخلاقی تعلیم کا شعور ہی دراصل ضمیر کہلاتا ہے۔یہاں آٹھویں صدی کے مشہور فلسفی عمانوایل کانٹ کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔اس نے بہت سے ایسے دلائل کو ر ڈ کیا ہے جو مختلف لوگوں نے ہستی باری تعالیٰ کے اثبات میں پیش کئے ہیں۔خاص طور پر ایسلام (Anselm) کے ہستی باری تعالیٰ کے حق میں دلائل کی کانٹ نے پر زور تردید کی ہے۔تاہم جس چیز نے کانٹ کے اپنے ضمیر کو سوچنے پر مجبور کر دیا وہ یہی ہے کہ ہر انسان میں ایک اخلاقی شعور پایا جاتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں صرف یہی دلیل قابل قبول ہے۔(11) یہ ضابطہ اخلاق در اصل انسانی ضمیر کا ایک حصہ ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس کو پورے طور پر سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔آخری صاحب شریعت نبی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ اس فطرتی ضابطہ اخلاق پر روشنی ڈالتی ہے۔کانٹ کا استدلال اپنے اندر وزن رکھتا ہے۔اُس کے اس حقیقت کو سمجھ لینے سے کہ ہر انسان کی فطرت میں خدا تعالیٰ کے تصور کی چھاپ موجود ہے۔ہمارے ذہن میں قرآن کریم کی وہ عظیم الشان آیت آتی ہے جس میں یہ ذکر موجود ہے کہ خدا کا تصور مخلوق کی فطرت کا جز ولا ینفک۔ہے۔یہ در حقیقت فطرتِ انسانی کے اس بنیادی خاکے میں شامل ہے جس نے انسانی ارتقا کے سفر میں اس کا رہنما بنا تھا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي أَدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ