ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 68
المسيح 68 یہ تقابل شعری کچھ طویل ہو رہا ہے دو مثالیں اور دے کر اس پر اکتفا کرونگا میر درد کہتے ہیں۔ہم کب کے چل بسے تھے پر اے مردہ وصال کچھ آج ہوتے ہوتے سرانجام رہ گیا یعنی محبوب کے ہجر میں میری یہ کیفیت تھی کہ اگر مردہ وصل نہ آتا تو میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔حضرت اقدس اس کیفیت کے بیان میں فرماتے ہیں۔میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا الطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار بات ایک ہی ہے۔اسلوب بیان با ہم قریب ہے۔مگر کیفیت کے اعتبار سے میر صاحب کو مثر دہ وصال نے کام تمام ہونے سے بچالیا ہے۔دوسری طرف حضرت اقدس ہیں کہ آپ تو واصل باللہ ہیں اس لیے آپ کو وصال نہ ہونے کے تصور نے بے تاب کیا ہے اس صورت میں جو سرانجام ہونا تھا اس کو مر کر خاک ہونے پر اکتفا نہیں کیا یکسر بے نام و نشان اور معدوم ہونے کا بیان ہے۔فرماتے ہیں۔پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار ایک شعر اور سن لیں۔میر درد کہتے ہیں۔کچھ تجھ کو بھی خبر ہے کہ اُٹھ اُٹھ کے رات کو عاشق تیری گلی میں کئی بار ہو گیا حضرت اقدس فرماتے ہیں۔شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا دیکھ لیں۔محبوب کی گلی بھی ہے۔عشق کا مجنونانہ اظہار بھی ہے اور محبوب بے خبر اور بے پرواہ بھی ہے۔مگر اس کیفیت کے بیان میں فرق کو دیکھیں کہ محبوب کو خبر کیسے ہو اگر شور نہ ہو اور میر نے عشق کی وارفتگی کو تو بیان کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اس وفورِ شوق کا نتیجہ کیا ہوگا۔حضرت نے یہ سب کمیاں دور کر کے اس نتیجہ کا بھی اظہار کر دیا کہ اگر خبر نہ لی گئی تو کیا ہوگا۔”لے جلدی خبر“ اور ” خوں نہ ہو جائے میں کس قدر تلازم اور خوبصورت صنعت گری ہے۔