ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 69
69 ادب المسيح اپنی محبت اور عشق کے اظہار میں اور لطف و عنایات باری تعالیٰ کے بیان میں ایسا کلام کہاں ملے گا۔کون اس طرح کے عشق الہی میں مبتلا ہوگا اور کس کو محبت قبول نہ ہونے کی صورت میں ایسا غم ہوگا۔ایک بار پھرسُن لیں۔شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا آخر پر حضرت اقدس کے اسلوب بیان کا میر درد کے اسلوب سے قریب تر ہونے کے اعتبار سے ایک مشاہدہ پیش کرتا ہوں اردو ادب کی دنیا میں میر درد کو ایک صوفی شاعر قرار دینے کی غرض سے ان کے دیگر اشعار کے ساتھ ذیل کے شعر کو تاکیڈا پیش کیا جاتا ہے۔جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا میرے دل میں خیال آیا کہ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنے حسن و جمال میں اُسی خالق کی طرف اشارہ کرتی ہے جو حسن ازل اور جمال لم یزل ہے یعنی باری تعالیٰ جل شانہ۔یہ حضرت کا دلپسند مضمون ہے۔جیسے فارسی میں فرماتے ہیں۔ہمہ جا شور تو بینم چه حقیقت چه مجاز سینی مشرک و مسلم ہمہ بریاں کر دی میں ہر جگہ تیرا ہی شور دیکھتا ہوں خواہ وہ حقیقت ہو یا مجاز تو نے تو مشرک اور مومن سب کے سینے جلا دیے ہیں۔( گرم کر دیے ہیں) اردو میں تو اس مضمون میں ایک معرکہ آرا ثنائے باری تعالیٰ ہے۔فرماتے ہیں۔کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا