ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 67
67 ادب المسيح مستقیم اور عہد پر قائم۔ہم نے اس مثال میں میر درد کے دو شعر دئیے ہیں تو حضرت کا بھی ایک اور فرمان سن لیں۔فرماتے ہیں۔کیسے کافر ہیں مانتے ہی نہیں ہم نے سوسوطرح سے سمجھایا اس غرض سے کہ زندہ یہ ہوویں ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا سوسو طرح سے مرنا ایک خوبصورت بیان ہے مگر اسی ترکیب لفظی کو حضرت نے بہت بہتر اور درست معنوں میں پیش کیا ہے مرنا تو ایک بار ہی ہوتا ہے اور سوسو بار مرنا تو ایک شاعرانہ غلو اور تعلی ہے مگر سمجھانے کی غرض سے سوسو طرح سے سمجھانا پڑتا ہے اور کسی مقصد کے حصول کے لیے دل میں مرنا ٹھہرایا جاتا ہے یہ ایک بہت فصیح کلام کا نمونہ ہے اس لیے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ کے کلام کو ہم نے اپنی جناب سے فصیح کیا ہے۔کلام افصحت من لدن رب كريم ترجمہ: تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے حقیقت الوحی ، ر - خ- جلد 22 صفحہ 106) یہ تو سب جانتے ہیں کہ زبان کے صحیح استعمال کو فصیح،، کہتے ہیں یہ بات تو برسبیل تذکرہ آگئی ہے۔مضمون یہ تھا کہ میر درد کے اشعار اور حضرت کے اشعار میں اسلوب بیان کا اتحاد ہے۔مقاصد بیان اور جذبات کی نوعیت میں اتفاق نہیں۔ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ میر درد ایک سالک راہ ہیں اور حضرت ایک واصل باللہ ہستی ہیں۔اس لیے میر درد کے بیان میں مایوسی اور نایافت کا عنصر ہے۔جس کے مقابل پر حضرت اقدس واردات عشق کے بیان میں محبوب کی رضا پر راضی ہیں اور اس کی عنایات کے مورد ہیں۔اور ”ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا‘ کے جواب میں محبوب حقیقی نے جو انعام اپنے باغ کے پھول پھینک کر دیا ہے اُس میں اس قدر خوش ہیں کہ اس کو حاصل زیست سمجھتے ہیں اور جاں نثار کرنے کو تیار ہیں۔بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا