ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 64
ب المسيح 64 ہر شخص کی سمجھ میں آسانی سے آتی ہے یہی حضرت اقدس کا اسلوب بیان ہے۔اور یہی ان کا منصب ابلاغ تھا کہ آپ کا پیغام عمومی اعتبار سے ہر ایک کی سمجھ میں آجائے۔یہ بھی مشاہدہ کریں کہ حضرت کا یہ طرز بیان قرآن کریم کے اتباع میں ہے۔جیسے کہ فرمایا: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر: 41) ترجمہ: ہم نے قرآن کو عمل کرنے کے لیے آسان بنایا ہے۔سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔اور پھر جیسا کہ کہا گیا ہے کہ اردو زبان کا GENIUS اور اسلوب خاص بھی یہی ہے بات میر درد کے مسلک کی ہو رہی تھی۔اس کے تسلسل میں مشاہدہ کریں تو آپ کا یہ مسلک ہمارے آقا سے کس قدر قریب ہے۔بلکہ ایک ہی ہے۔فرماتے ہیں۔وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اُس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے اور فرماتے ہیں: اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں اور فارسی میں فرماتے ہیں: وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ز عشاق فرقان و پیغمبریم بدین آمدیم و بدین بگذریم ترجمہ: ہم قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہیں۔اسی کیساتھ پیدا ہوئے ہیں اور اسی کیساتھ فوت ہوں گے۔حق تو یہ ہے کہ حضرت اقدس کی رسالت کی شرط اعظم محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھی۔جیسا کہ آپ کو رویا میں دکھایا گیا فرماتے ہیں۔نثار میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مجھی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اُس نے کہا ” هذا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ 66 یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔